ادلب جنگ کے دائرہ کار کے سلسلہ میں روس اور ترکی کے درمیان تنازعہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 7 ستمبر, 2018
0

ادلب جنگ کے دائرہ کار کے سلسلہ میں روس اور ترکی کے درمیان تنازعہ

ماسکو: رائد جبر- انقرہ: سعید عبد الرازق

          کل باخبر ذرائع نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ملک کے مغربی شمال میں ادلب گورنریٹ پر شامی حکومت کی فورسز کی طرف سے ہونے والی فوجی کارروائی کے دائرہ کار کے سلسلے میں روس اور ترکی کے درمیان تنازعہ جاری ہے اور تہران کے اندر آج ایران، روس اور ترکی کے درمیان سربراہی اجلاس کے انعقاد کی امید ایک ایسے وقت میں کی جارہی ہے جس میں بین الاقوامی سکیورٹی کونسل شامی بحران اور ادلب کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک نشست منعقد کر نے جارہی ہے۔

        ایک طرف روس اور تہران گورنریٹ کے اندر دہشت گردی کے وجود کے معاملہ کو حل کرنے پر مصر ہے تود وسری طرف روسی ذرائع نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انقرہ وسیع پیمانے پر ایسی فوجی کارروائی کی ہرگز اجازت نہیں دیگا جو اس علاقے کے اندر اس کے اثر ورسوخ کو ختم کر دے۔ اسی دوران کل شہری مسلسل ادلب سے نکل کر ترک سرحدوں کا رخ کرتے رہے ہیں جبکہ خبریں آرہی ہیں کہ شمالی حماہ تک روس کی طرف سے وسیع پیمانہ پر حملہ کرنے کے ارادہ میں ہے۔

       دوسری طرف شام کی ڈیموکریٹک کمیٹی نے اپنے قبضہ والے علاقوں میں ایک متحد ادارہ کو تشکیل کرنا شروع کر دیا ہے اور یہ ایسا اقدام ہے جس کی وجہ سے وہ شام کے مشرق ومغرب کے اندر اپنی حکومت کو مضبوط کر سکتا ہے۔

جمعہ – 27 ذی الحجہ 1439 ہجری – 07 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14528)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>