سلامہ کی طرف سے طرابلس ہوائی اڈہ کو نشانہ بنانے والے کی شناخت کی انکشاف کرنے کی دھمکی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 13 ستمبر, 2018
0

سلامہ کی طرف سے طرابلس ہوائی اڈہ کو نشانہ بنانے والے کی شناخت کی انکشاف کرنے کی دھمکی

کل سلامہ اور سراج کو طرابلس کے فوجی اور سکیورٹی رہنماؤں کے ساتھ اپنی میٹنگ کے دوران دیکھا جاسکتا ہے (بین الاقوامی وفد)

قاہرہ: خالد محمود

ایک طرف لیبیا کی  دار الحکومت طرابلس کے اندر نازک جنگ بندی کے معاہدہ کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف دار الحکومت کے ہوائی اڈہ کے دائرہ میں میزائل کے ذریعہ ہونے والے حملہ کی وجہ سے ہوائی اڈہ کو بند کردیا گیا ہے اور تمام جہازوں اور سفر کو  مصراتہ ہوائی اڈہ کی طرف منتقل کردیاگیا ہے اور یہ اطلاع راستوں کو بند کردۓ جانے اور جنوبی دارالحکومت کی طرف کشیدگی منتقل ہونے کے سلسلے میں تیار کردہ ایک رپورٹ میں ملی ہے۔

میلیشیاؤں کی طرف سے جنگ بندی کی ہورہی خلاف ورزی کے سلسلے میں اپنی بے صبری کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی سفیر غسان سلامہ نے کل لیبیائی میڈیا کی طرف سے نقل کۓ گئے ایک بیان کے دوران کہا ہے کہ  چار دن قبل اور پرسوں رات معیتیقہ ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے کو ہم جانتے ہیں اور وہ بھی جانتا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ کون ہیں اور میں اس سے کہتا ہوں کہ اگلی مرتبہ میں تمہارا نام بتادوں گا۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>