ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے یمن میں اتحاد کی مدد کرنے کی یقین دہانی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 29 نومبر, 2018
0

ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے یمن میں اتحاد کی مدد کرنے کی یقین دہانی

کل کانگریس کے بند اجلاس سے نکلنے کے بعد پومپیو کو بیان دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

         امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ وہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کا تعاون کرے گا اور اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ امریکہ کا نکلنا معاملہ کو مزید سنگین کر دے گا۔

        اس انتظامیہ نے کیبینیٹ کی طرف سے جاری ہونے والے اس حکم پر اعتراض کرنے کا اشارہ کیا ہے جس میں یمن کے اندر قانون کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ساتھ امریکہ کی شرکت کو روکنے کی بات ہوگی اور اسی وقت وزیر خارجہ مائک پومپیو اور وزیر دفاع جیمس ماٹیس نے کل یمن کے سلسلہ میں ہونے والے بند اجلاس میں کیبینیٹ کے سامنے اس کی گواہی دی۔

        پومپیو نے کہا کہ امریکہ کی علیحگی کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران طاقت ور ہو اور داعش سرگرم ہو اور اس سے جنگ کی مدت طویل ہوگی اور مزید شہریوں کا قتل ہوگا اور دہشت گرد جماعتوں کو پرامن جگہیں مل جائیں گی اور اس کے علاوہ ریڈ سمندر میں امریکی کشتیوں اور تیل کے ٹینکروں کے لئے خطرات پیدا ہوں گے اور انہوں نے پرزور انداز میں یہ کہا کہ سعودی عرب کشمکش سے پر مشرق وسطی کے علاقہ میں امن واستقرار قائم کرنے کے سلسلہ میں مؤثر اور طاقت ور ہے اور وہ عراق کے اندر امن واستقرار کے سلسلہ میں سرگرم ہے اور اس نے شام کے پناہ گزینوں کی بھی مدد کیا ہے۔

        بند اجلاس کے مکمل ہونے کے بعد پومپیو نے کانگریس کے اراکین کے سامنے واضح کیا کہ اگلے ماہ سویڈن میں گفتگو کرنے کے لئے یمن کے تمام فریقوں کو جمع کرنے کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کے سفیر مارٹن گریفتھ کی کوششوں کو طاقت بہم پہنچانا بہت اہم ہے اور ان کی یہ کوششیں یمن میں داخلی جنگ ختم کرکے ایک جنگ بندی معاہدہ کرنے کے لئے ہے۔

        پومپیو نے واضح کیا کہ ایران جزیرہ عرب میں لبنانی حزب اللہ کا ایک دوسری کاپی کرنا چاہتا ہے تاکہ تہران کے شیعہ علماء باب المندب گذرگاہ کے اسٹریٹیجک مانی گذرگاہ کے ذریعہ سمندری تجارت پر قابو پا سکیں اور انہوں نے اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ اس مقصد میں ایران کی کامیابی کی وجہ سے عالم اور ریاستہائے متحدہ کے لئے برا ہوگا اور پومپیو نے دوسری طرف یہ کہا کہ کوئی ایسی براہ راست معلومات نہیں ہیں جن کا تعلق سعودی عرب کے ولی عہد اور جمال خاشقجی کے قتل کے حکم کے درمیان ہو۔

       اسی سلسلہ میں ماٹیس نے یمن کے اندر ریاستہائے متحدہ کے کردار کا دفاع کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط شراکت کی اہمیت پر زور دیا ہے اور خاشقجی کے قتل کے پیش نظر اپنائے جانے والے موقف کے سلسلہ میں کیبینیٹ کے اراکین کی طرف سے کئے جانے والے مطالبات کے بارے میں ماٹیس نے کہا کہ یمن میں شرکت کرنے کے سلسلہ میں ووٹ دینے کا وقت مناسب نہیں ہے۔

جمعرات 21 ربیع الاول 1440 ہجری – 29 نومبر 2018ء – شمارہ نمبر [14511]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>