واشنگٹن: مشرقی فرات اور منبج ریڈ لائن ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: اتوار, 16 دسمبر, 2018
0

واشنگٹن: مشرقی فرات اور منبج ریڈ لائن ہے

ترکی فوج کے پؤائنٹ کے قریب درباسیہ میں ایک کرد جنگجو کو دیکھا جا سکتا ہے

انقرہ: سعید عبد الرازق ۔ لندن: الشرق الاوسط

         امریکہ کے ذمہ داروں نے انقرہ کے ہمنواء شامی مخالفین کے فوجی اور سیاسی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ مشرقی نہر فرات کا علاقہ اور منبج شہر دونوں امریکی فوج کے لئے ریڈ لائن ہیں۔

        داعش کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کے ہمنوا شام کی ڈیموکریٹک فورسزسے بنی عوام کی حمایتی کرد یونٹس کے خلاف شمالی شام میں ترکی کی طرف سے کئے جونے والے فوجی حملہ کے اشارہ کے بعد امریکہ اور ترکی دونوں فریق کے درمیان سیاسی اور فوجی رابطے ان دو دنوں کے دوران کافی ہو چکے ہیں۔

       لیکن امریکہ کے ذمہ داروں نے شام کی قومی مخالف اتحاد اور آزاد فورسز کو بتایا ہے کہ اس کاروائی میں اتحاد اور آزاد فورسز کی طرف سے کسی بھی قسم کی شرکت کا مطلب ریاستہائے متحدہ اور اتحاد کے فورسز ہر حملہ کرنا ہوگا اور اس کا مطلب براہ راست اس کے ساتھ ٹکرانا ہوگا اور امریکہ کی فورسز اور شام کی ڈیموکریٹک فورسز ایک دوسرے کے ساتھ ضم ہیں لہذا اتحاد اور امریکہ کی فورسز کو نشانہ بنائے بغیر شام کی ڈیموکریٹک فورسز پر حملہ کرنا ناممکن ہے اور امریکہ کے ذمہ داروں نے آگاہ کیا ہے کہ جب ہاتھی ناچے تو اس وقت تم کو میدان سے دور رہنا چاہئے۔

      تنظیم داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں امریکی صدر کے سفیر بریٹ میکگورک نے پرزور انداز میں کہا کہ ترکی کی طرف سے کسی بھی قسم کی کاروائی حکمت پر مبنی نہیں ہوگی۔(۔۔۔)

اتوار 08 ربیع الثانی 1440 ہجری – 16 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14628]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>