حوثیوں کے ڈرون جہاز چلانے والے غیر ملکی ماہرین ہیں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 12 جنوری, 2019
0

حوثیوں کے ڈرون جہاز چلانے والے غیر ملکی ماہرین ہیں

پرسو العند بیس پر ہونے والے حملہ کے وقت فوجی پیش کش کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے

ریاض ۔ عدن: "الشرق الاوسط”

       کل یمن میں قانون کی حمایت کرنے والے اتحاد کے فورسز نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے یمن کے اندر حوثیوں کے باغی میلیشیاؤں کے رابطہ کے نیٹ ورک اور اس غار کو بربار کر دیا ہے جہاں سے غیر ملکی ماہرین ڈرون جہاز کی آپریٹنگ کرتے تھے۔

      اتحاد نے یہ بھی بتایا ہے کہ حوثیوں نے یمن کے رابطہ کی کمپنی کے ویب سائٹ پر قبضہ کر کے اسے جہاز کو آپریٹ کرنے کے ایک مرکز میں تبدیل کر دیا تھا اور اس نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ رابطہ کے مرکز کو ہلاک کرکے اس پر قابو پانا بین الاقوامی انسانی قانون اور دو طرفہ استعمال کے مطابق کیا گیا ہے۔

       اتحاد نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ اس نشانہ میں میلیشیاؤں کے دہشت گرد کاروائیوں کو دور کرکے علاقائی اور بین الاقوامی امن واستقرار کو بحال کیا گیا ہے۔

      کل شام اسی دوران عدن کی ایک تیل کمپنی کے خزانہ میں آگ لگ گئی اور اس کے اسباب کے سلسلہ میں خبریں دو چند ہیں کسی کا کہنا ہے کہ یہ آگ بجلی کی وجہ سے لگی ہے اور کسی کا کہنا ہے کہ شادی میں چلائی جانے والی گولی سے لگی ہے لیکن ابھی تک کسی ادارہ نے اس آگ زنی کی ذمہ داری قبول نہیں کیا ہے اور وزارت داخلہ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ آگ ڈرون جہاز کی وجہ سے لگی ہے۔(۔۔۔)

ہفتہ 06 جمادی الاول 1440 ہجری – 12 جنوری 2019ء – شمارہ نمبر [14655]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>