اضنہ معاہدہ کے سلسلہ میں انقرہ اور دمشق کے درمیان مذاکرہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: اتوار, 27 جنوری, 2019
0

اضنہ معاہدہ کے سلسلہ میں انقرہ اور دمشق کے درمیان مذاکرہ

ترکی صدر رجب طیب اردوگان کو دیکھا جا سکتا ہے

ماسکو: رائد جبر انقرہ: سعید عبد الرزاق

         انقرہ اور دمشق نے اضنہ معاہدہ کے سلسلہ میں اپنے موقف کا اظہار علی الاعلان کیا ہے اور ایسا لگ رہا  ہے کہ بیس سال قبل ہونے والے معاہدہ کو نافذ کرنے کے سلسلہ میں یہ ایک مذاکرہ ہے۔

        ترکی صدر رجب طیب اردوگان نے کہا سنہ 1998ء میں ہونے والے معاہدہ کے احکام اب تک جاری ہیں اور یہ بھی کہا کہ جو شام میں ترکی وجود کے سلسلہ میں پوچھتے ہیں انہیں بتا دیں کہ اضنہ کا معاہدہ اب بھی جاری ہے۔

        اس کے مقابلہ میں سانا نامی شام کی سرکاری نیوز ایجنسی نے شام کی وزارت خارجہ سے نقل کیا ہے کہ دمشق اب تک اس معاہدہ کا پابند ہے اور اس معاہدہ کا تعلق دونوں ملک کی طرف سے ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے ہے لیکن ترکی حکومت سنہ 2011ء سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

      روسی وزیر خارجہ سیرگی لاوورو پرسو مراکش میں کہا تھا کہ ان کا ملک اس معاہدہ کو اب بھی جاری سمجھتا ہے اور ماسکو اور ترکی دونوں شام کی سرزمین کی وحدت کے قائل ہیں۔(۔۔۔)

اتوار 21 جمادی الاول 1440 ہجری – 27 جنوری 2019ء – شمارہ نمبر [14670]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>