وارسو کانفرنس میں ایران کے رویہ کو کنٹرول کرنے کے لئے چھ کمیٹیوں کی تشکیل - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 8 فروری, 2019
0

وارسو کانفرنس میں ایران کے رویہ کو کنٹرول کرنے کے لئے چھ کمیٹیوں کی تشکیل

کل حلب گورنریٹ کے شمال میں واقع بازی باغ نامی گاؤں کے اندر پناہگزینوں کے خیمہ میں کھانے پینے کی مدد حاصل کرنے کے انتظار میں شامی بچوں کو دیکھا جا سکتا ہے

لندن: ابراہیم حمیدی

        امید ہے کہ امریکہ اور بالینڈ کی نگرانی میں موجودہ ماہ کی چودہ تاریخ کو وارسو میں منعقد ہونے والا مشرق وسطی میں امن وسلامتی کانفرنس کے دوران مشرق وسطی میں ایران کے رویہ کو کنٹرول کرنے کے لئے چھ کمیٹیوں کی تشکیل ہوگی۔

      ان کمیٹیوں کا مقصد سیبرانی امن وسلامتی کو نشانہ بنانے اور بیلیسٹک میزائل کے مقابلہ کے ساتھ دہشت گردی کا بھی مقابلہ کرنا ہے اور انسانی حقوق کی حفاظت کے ساتھ سمندری راستہ کے امن وامان اور توانائی کی فراہمی بھی کرنی ہے اور اس فیصلہ میں مشرق وسطی میں ایران کے رویہ کی طرف براہ راست اشار ہے۔

      اس کانفرنس میں 79 ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے اور اس کانفرنس کا افتتاح شام کی برف بھیجے گئے اقوام متحدہ کے سفیر گیر بیڈرسون اپنی مختصر گفتگو کے ذریعہ کریں گے۔

      اسی سلسلہ میں خبر یہ بھی مل رہی ہے کہ ایران نے شیشہ کے کمرے کے نام سے مشہور دمشق ایئرپورٹ پر اپنی کاروائیوں کی جگہ کو اسرائیلی حملوں کے بعد شام کے اندر ٹی فور نامی ایئربیس کی طرف منتقل کر دیا ہے۔

      امید یہ ہے کہ ایسا کام ماسکو نے گذشتہ ہفتہ تل ابیب کے اندر روسی وفد کے فوجی مذاکرات کے بعد انجام دیا ہے۔

جمعہ 03 جمادی الآخر 1440 ہجری – 08 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14682]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>