سوچی کانفرنس میں پرامن علاقہ اور ادلب کا مسئلہ حل نہ ہو سکا - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 15 فروری, 2019
0

سوچی کانفرنس میں پرامن علاقہ اور ادلب کا مسئلہ حل نہ ہو سکا

وائٹ روس کے صدر کو کل سوچی کانفرنس کے بعد ایران، ترکی اور روس کے حکمرانوں سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

ماسکو: رائد جبر

        کل سوچی میں روسی صدر ولادیمئر پوٹن، ایرانی صدر حسن روحانی اور ترکی صدر رجب طیب اردوگان کی طرف سے منعقدہ کانفرنس شام کے اندر پرامن علاقہ اور ادلب کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جبکہ اس سے قبل اس کانفرنس کے سلسلہ میں یہ امیدیں کی جا رہی تھیں کہ اس میں سیاسی اور میدانی دونوں اعتبار سے منصوبہ بنایا جائے گا اور نصرہ فرنٹ کے اثر ورسوخ کو کم کرنے کے لئے ادلب کے فوجی کاروائی کی ضرورت کے سلسلہ میں روسی لہجہ نے یقین بھی دلایا تھا لیکن اختتامی صحافتی کانفرنس کے بیان میں اس کے برعکس ظاہر ہوا کہ یہ تینوں صدر دونوں مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں ناکام ہو چکے ہیں۔

      پوٹن اور روحانی دونوںنے  پرزور انداز میں کہا کہ شام کے اندر دہشت گردی کے وجود کو ختم کرنے اور تمام سرزمیں کو قانونی حکومت کے حوالہ کرنے کی ضرورت ہے اور اردوگان نے ازسر نو ادلب میں فوجی کاروائی نہ کرنے کی تاکید کی ہے اور کہا کہ حلب جیسا منظر بنانا ممکن نہیں ہے۔

جمعہ 10 جمادی الآخر 1440 ہجری – 15 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14689]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>