سرنگوں اور شہریوں کی وجہ سے داعش کو جغرافیائی اعتبار سے ختم کرنے میں تاخیر - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: اتوار, 17 فروری, 2019
0

سرنگوں اور شہریوں کی وجہ سے داعش کو جغرافیائی اعتبار سے ختم کرنے میں تاخیر

شام کی ڈیموکریٹک فورسز کے ذریعہ داعش سے واپس لئے گئے ہجین نامی علاقہ کے قریب ایک علاقہ میں مرغیوں کو فروخت کرتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا جا سکتا ہے

باگور  (مشرقی شام): کمال شیخو انقرہ: سعید عبد الرازق

        شام کی ڈیموکریٹک فورسز نے اعلان کیا کہ مشرقی شام میں تنظیم داعش کے آخری علاقہ میں موجود محصور شہریوں اور سرنگ میں ان کے داخل ہونے کی وجہ سے داعش کا خاتمہ کرنے کے سلسلہ میں تاخیر ہو رہی ہے۔

       شام کی ڈیموکریٹک فورسز کی مشن کے کمانڈر جیا فرات نے کہا کہ داعش اس باگور علاقہ کے اندر ایک گاؤں میں محصور ہو چکے ہیں جو ہمارے جنگجؤوں کے نشانہ پر ہیں لیکن انہوں نے اشارہ کیا کہ ان کی فورسز احتیاط کے ساتھ حرکت کر رہی ہے کیونکہ وہاں ابھی بہت سے لوگ ہیں جن کو ان انتہاء پسند لوگوں نے اپنا ڈھال بنا رکھا ہے۔

      ان فورسز کے ترجمان عدنان عفرین نے کہا کہ سرنگوں کو ابھی تک تلاش کیا جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں مختلف طریقے اختیار کئے جا رہے ہیں جن میں بند کرنے یا دھماکہ کرنے کا طریقہ ہے۔(۔۔۔)

اتوار 12 جمادی الآخر 1440 ہجری – 17 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14691]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>