واشنگٹن کی طرف سے مشرقی شام میں امن وسلامتی کی فورسز کے ذریعہ اپنے ہم نواؤں کی آمادگی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 23 فروری, 2019
0

واشنگٹن کی طرف سے مشرقی شام میں امن وسلامتی کی فورسز کے ذریعہ اپنے ہم نواؤں کی آمادگی

کل مشرقی شام میں داعش کے خلاف ہونے والی جنگ کے دوران امریکی ہمنواؤں کی بکتر بند گاڑیوں کو دیکھا جا سکتا ہے

ماسکو: رائد جبر ۔ انقر: سعید عبد الرازق ۔ واشنگٹن: ایلی یوسف

        کل واشنگٹن نے شام کے اندر 400 فوج کو رکھنے کا اعلان کیا ہے جن میں سے نصف شمال کے اس پر امن علاقہ میں رہیں گے جس کے بارے میں مذاکرات ہو رہے ہیں اور نصف حصہ اردن اور عراق کے ساتھ سرحدوں کے قریب تنف ایئربیس میں رہیں گے۔

      روئٹرز ایجنسی نے ایک بڑے امریکی ذمہ دار سے نقل کیا ہے کہ وہ 200 فوج جو شام کے مشرقی شمال میں رہیں گے امید ہے کہ وہ اس فورسز کے حصہ ہوں گے جن کی تعداد 800 سے 1500 ہوگی اور ان کے ساتھ یورپ ہمنوا بھی شرکت کریں گے۔

      پرسو وائٹ ہاؤس نے شام کے اندر امن وسلامتی کی حفاظت کرنے والی جھوٹی ٹکڑی کو رہنے کے منصوبہ کا اعلان کیا تھا تاکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تمام فورسز کے انخلاء کے سلسلہ میں ہونے والے فیصلہ کے ایک حصہ کو بدل دیا جائے او یاد رہے کہ ان کی تعداد 2000 ہے۔

      کل ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے مدد کردہ شام کی ڈیموکریٹک فورسز کی تابع انتظامیہ کے اندر خارجی تعلقات کے ایک ذمہ دار عبد الکریم عمر نے کہا کہ علاقہ کے اندر امن وسلامتی کی حفاظت کے لئے 200 فوج کو باقی رہنے کے سلسلہ میں وائٹ ہاؤس کے فیصلہ کو مثبت فیصلہ سمجھتے ہیں۔(۔۔۔)

ہفتہ 18 جمادی الآخر 1440 ہجری – 23 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14697]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>