پرسکون ماحول کے لئے حماس کی طرف سے بیس ملین کا مطالبہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 6 مارچ, 2019
0

پرسکون ماحول کے لئے حماس کی طرف سے بیس ملین کا مطالبہ

پیر کے دن بیت ایل کے قریب ہونے والی جھڑپوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی طرف سے چھوڑے جانے والے گیس سے اپنے اپ کو بچاتے ہوئے ایک فلسطینی شہری کو دیکھا جا سکتا ہے

رام اللہ: کفاح زبون

        دوسرے مرحلہ کی طرف بہت جلد منتقل ہو کر غزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدہ کو نافذ کرنے کے مقصد سے مصر اسرائیل اور حماس کے درمیان گفتگو کر رہا ہے اور حماس نے اسرائیل کے ساتھ ماحول کو پرسکون بنانے کے لئے اپنے کام کرنے والوں کی تنخواہ دینے اور ان کی طرف مال پہنچنے کے لئے بیس ملین ڈالر دینے کی شرط لگائی ہے کیونکہ اس سے قبل مال منتقل کرنے کو روک دیا گیا تھا۔(۔۔۔)

      دوسری طرف بیت المقدس میں اسلامی امور اور اوقاف کمیٹی کے رکن حاتم عبد القادر نے کہا کہ کمیٹی نے ہفتہ کے دوران باب الرحمہ نماز گاہ کی عمارت کو بند کرنے یا طاقت استعمال کرنے کے سلسلہ میں اسرائیلی عدالت کے مطالبہ کا جواب نہیں دیا ہے اور پرزور انداز میں کہا کہ نماز گاہ نمازیوں کے لئے کھلی رہے گی اور انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی عدالتیں مسجد اقصی کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ کرنے والی نہیں ہیں۔

بدھ 29 جمادی الآخر 1440 ہجری – 06 مارچ 2019ء – شمارہ نمبر [14708]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>