جنگ کے اسکریب کے سلسلہ میں شامی انتظامیہ کے مالداروں کے درمیان مقابلہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 21 مارچ, 2019
0

جنگ کے اسکریب کے سلسلہ میں شامی انتظامیہ کے مالداروں کے درمیان مقابلہ

کل وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سامنے عراق اور شام کے اندر داعش کے اثر ورسوخ کو سمٹ جانے کی وضاحت کرنے والے نقشہ کو پیش کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دیکھا جا سکتا ہے

واشنگٹن: ہبہ القدسی ریف دمشق: الشرق الاوسط

        شامی انتظامیہ سے قریب جنگ کے مالداروں کے درمیان ان اسکریپ لوہے کو خریدنے اور دوبارہ بنانے کی کاروائی کے سلسلہ میں مقابلہ شروع ہو چکا ہے جن کو ان علاقوں سے جمع کیا جائے گا جہاں حکومت کی فورسز دوبارہ اپنی حکومت قائم کر رہی ہے اور وہ علاقے مکمل طور پر ڈھا چکے ہیں۔(۔۔۔)

     اس کے علاوہ جنگ کے سالوں کے درمیان الٹیوک نامی ایک چیز کا ظہور ہوا ہے اور اس سے مراد لوٹ پاٹ کے وہ کاروائیاں ہیں جنہیں سرکاری فوج کے اہلکار اور اس کی میلیشیاؤں نے ان شہروں اور گاؤں میں گھروں کی چیزوں کو حاصل کرنے میں انجام دی ہے جن پر حکومت نے دوبارہ دسترس حاصل کیا ہے اور ابھی لوہے کے دروازوں، کھڑکیوں اور ڈھائے ہوئے گھروں سے نکالے جانے والے لوہوں کے انبار کو جمع کرنے کا کام جاری ہے تاکہ انہیں دوبارہ استعمال میں لانے کے لئے بنایا جا سکے۔(۔۔۔)

جمعرات 14 رجب المرجب 1440 ہجری – 21 مارچ 2019ء – شمارہ نمبر [14723]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>