اقوام متحدہ کی طرف سے یمن کے بچوں کے خلاف حوثیوں کی خلاف ورزیوں کی مذمت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 26 مارچ, 2019
0

اقوام متحدہ کی طرف سے یمن کے بچوں کے خلاف حوثیوں کی خلاف ورزیوں کی مذمت

کل ریاض میں اتحاد کے مشترکہ فوج کے کمانڈر اور اقوام متحدہ کی خاتون ترجمان کو ایک معاہدہ پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

ریاض: صالح الزید ۔ جدہ: اسماء الغابری

       یمن میں قانون کی حمایت کرنے والے اتحاد اور اقوام متحدہ نے کل ریاض کے اندر یمن کے بچوں کی حمایت کے سلسلہ میں ایک معاہدہ پر دستخط کیا ہے اور اس معاہدہ پر دستخط کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کی خاتون ترجمان فرجینا جامبا نے حوثیوں کی طرف سے ہونے والی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے اور پرزور انداز میں کہا کہ حوثی لوگ ہی ہیں جنہوں نے یمن کے بچوں کی حمایت میں کوئی کاروائی نہیں کی ہے۔

     بچوں اور ہتھیار چھین لینے سے متعلق اقوام متحدہ کی خاتون سفیر نے انکشاف کیا کہ ہونے والا معاہدہ دنیا کے اندر اپنی قسم کا پہلا معاہدہ ہے اور یہ معاہدہ دونوں فریق کے تعاون سے ہوا ہے اور جامبا نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدہ کا نفاذ یمن کی سرزمین میں ہوگا اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ دنیا کے اندر سالانہ دس ہزار بچوں کو فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے۔(۔۔۔)

منگل 19 رجب المرجب 1440 ہجری – 26 مارچ 2019ء – شمارہ نمبر [14728]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>