مشرقی فرات کے سلسلہ میں انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان گفت وشنید - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 6 اپریل, 2019
0

مشرقی فرات کے سلسلہ میں انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان گفت وشنید

انقرہ: سعید عبد الرازق واشنگٹن: راید جبر

     واشنگٹن اور انقرہ نے گزشتہ بدھ کے دن امریکی دار الحکومت میں دونوں ملک کے وزیر خارجہ مایک پومپیو اور مولود جاویش اوگلو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں جو گفتگو ہوئی اس سلسلہ میں بیان بازیاں کی۔

     واشنگٹن نے پرزور انداز میں کہا کہ وہ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں جو کچھ کہا گہا ہے وہ اس پر کاربند ہے جبکہ انقرہ نے بیان میں جو دھمکی کی بات ہے اس کی نفی کی ہے کہ مشرقی فرات میں یک طرفہ کاروائی کے سلسلہ میں ترکی کی طرف سے ہونے والے اقدام کا نتیجہ تباہ کن ہوگا اور اس نے یہ بھی کہا کہ آئندہ دوبارہ ملاقات ہوگی لیکن اس کی حقیقت کو بیان نہیں کیا۔(۔۔۔)

     دوسری طرف روسی سیکورٹی کمیٹی کے سیکریٹری نیکولائے نے اسرائیلی قومی سیکیورٹی کمیٹی کے صدر کے ساتھ وسیع پیمانہ پر مذاکرات کیا ہے۔(۔۔۔)

     ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی کے میدان میں اسرائیلی اور روسی تعاون سے متعلق چند موضوعات کے سلسلہ میں گفت وشنید ہوئی ہے اور اسی طرح ان دونون نے شام کے حالات کا بھی جائزہ لیا ہے۔(۔۔۔)

ہفتہ 30 رجب المرجب 1440 ہجری – 06 اپریل 2019ء – شمارہ نمبر [14739]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>