فوج کی طرف سے بشیر کی معزولی اور حکومت کی حفاظت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 12 اپریل, 2019
0

فوج کی طرف سے بشیر کی معزولی اور حکومت کی حفاظت

فوج کے بیان کے خلاف کل خرطوم کی سڑکوں پر نکلے ہوئے لوگوں کو ایک طرف دیکھا جا سکتا ہے تو دوسری طرف دائرہ میں بشیر کو معزول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر دفاع کو دیکھا جا سکتا ہے

خرطوم: احمد یونس ۔ لندن: مصطفی سری

        چار ماہ سے مسلسل ہونے والے عوامی مظاہرے کے دباؤ میں آکر کل سوڈانی فوج نے صدر عمر بشیر کو معزول کر کے ان کو گھر میں نظر بند کر دیا ہے اور حکومت کی بھی حفاظت کی ہے اور ایک انتقالی فوجی کمیٹی بنائی ہے جو ملک کی ذمہ داری دو سال تک کے لئے اپنے ہاتھ میں رکھے گی لیکن سڑک کی عوام اور اپوزیشن نے فوج کے اس اقدام کو مسترد کیا ہے اور حکومت شہریوں کے حوالہ کرنے کی تاکید کی ہے۔(۔۔۔)

       فوج کے بیان میں کہا گیا کہ وہ اس انتقالی مرحلہ کے اختتام پر آزاد اور صاف وشفاف انتخاب کرانے، سیاسی پارٹیاں بنانے اور ملک کے لئے ایک دائمی دستور بنانے تک حکومت کے لئے پرامن انتقال کا ماحول تیار کرے گی اور پھر فوج نے طاقت کے ذریعہ دھربا ختم کرنے کی بھی دھمکی دے دی ہے۔

      بین الاقوامی ردود فعل کے طور پر ریاستہائے متحدہ اور پانچ یورپین ممالک نے سوڈان کے اندر صورتحال کا مذاکرہ کرنے کے لئے بین الاقوامی سیکورٹی کمیٹی کی بند کمرے میں ایک اجلاس منعقد کیا ہے اور واشنگٹن نے شہری سوسائٹی کے اداروں کے لئے اس انتقالی مرحلہ کے لئے شرکت کرنے کی اجازت دئے جانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایک جمہوری نظام بن سکے۔(۔۔۔)

جمعہ 07 شعبان المعظم 1440 ہجری – 12 اپریل 2019ء – شمارہ نمبر [14746]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>