سعودی عرب اور امارات کی طرف سے تیل کی امداد کی حفاظت کرنے کے لئے بین الاقوامی حرکت کا مطالبہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: اتوار, 16 جون, 2019
0

سعودی عرب اور امارات کی طرف سے تیل کی امداد کی حفاظت کرنے کے لئے بین الاقوامی حرکت کا مطالبہ

گزشتہ جمعرات کے دن الفجیرہ بندرگاہ کے پاس ہونے والے جہاز پر حملہ کے بعد اس بندرگاہ کے سامنے ایک کشتی کو دیکھا جا سکتا ہے

بغداد: حمزہ مصطفی ۔ لندن ۔ واشنگٹن: الشرق الاوسط

      کل سعودی عرب اور امارات نے ہرمز گذرگاہ کے قریب خلیج عمان میں اپنا راستہ طے کرنے والے تیل کے دو جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے دو دن بعد خلیج کی پانی میں تیل کی امداد کو محفوظ بنائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

     سعودی عرب کے تیل وزیر خالد الفالح نے جاپان کے کارویزوا شہر کے ابدر جی20 کے اجلاس میں پرزور انداز میں کہا کہ خریدنے والوں کی امید اور مارکیٹ کے استقرار اور تیل کی امداد کی دھمکی کی حفاظت کے لئے بہت جلد کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

    اسی سلسلہ میں امارات کے وزیر خارجہ الشیخ عبد اللہ ابن زاید آل نہیان نے بلغاریہ کی دار الحکومت صوفیا میں کہا کہ تیل کے پہنچنے کی حفاظت اور بین الاقوامی ایویگیشن کی حفاظت کے لئے بین الاقوامی سماج پر تعاون کرنا ضروری ہے۔(۔۔۔)

اتوار 12 شوال المکرم 1440 ہجری – 16 جون 2019ء – شمارہ نمبر [14810]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>