اربیل کے حملہ کی وجہ سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 18 جولائی, 2019
0

اربیل کے حملہ کی وجہ سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

اربیل میں حملہ کی جگہ ایک ہوٹل کے سامنے کرد پولس اہلکار کو دیکھا جا سکتا ہے

اربیل: احسان عزیز انقرہ: سعید عبد الرازق واشنگٹن: ایلی یوسف

       مغربی ڈپلومیٹک ذرائع نے الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل عراقی کردستان کے اربیل کے اندر ترکی کے نائب کونسلیٹ کی ہلاکت ایک ایسی آگ ہے جس کی وجہ سے مشرقی شام کے پرامن علاقہ کے قیام کے سلسلہ میں انقرہ کے اندر امریکہ اور ترکی کے درمیان ہونے والی گفت وشنید کے اجلاسات سے قبل ان کے درمیان مزید کشیدگی پیدا ہو جائے گی۔

       اربیل پولس کے ایک ذمہ دار نے وضاحت کے ساتھ کہا کہ ترکی کے کونسلیٹ کے ساتھ دو اور شخص اس مسلح حملہ میں ہلاک ہوئے ہیں جس میں کونسلیٹ اور اس کے کارندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ ایک ہوٹل میں موجود تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ حملہ کرنے والا فرار ہو گیا۔

     ترکی کی اناضول نیوز ایجنسی نے بتایا کہ حملہ آور تن تنہا سول لباس میں ملبوس تھا اور اس کے پاس دو پستول تھے اور اس نے براہ راست ترکی کونسلیٹ کے کارندوں پر گولی چلا دی۔(۔۔۔)

جمعرات 15 ذی قعدہ 1440 ہجری – 18 جولائی 2019ء – شمارہ نمبر [14842]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>