لبنان اہل فلسطین کے کام کو آسان کرنے اور اہل شام کے ساتھ سختی برتنے کے لئے تیار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 26 جولائی, 2019
0

لبنان اہل فلسطین کے کام کو آسان کرنے اور اہل شام کے ساتھ سختی برتنے کے لئے تیار

بیروت کے ایک ہوٹل میں غیر ملکی کام کرنے والوں کے کاغذات کو چیک کرتے ہوئے وزارت کے کارندوں کو دیکھا جا سکتا ہے

بیروت: الشرق الاوسط

      لبنانی حکومت نے شام کے کام کرنے والوں کے ساتھ سختی کا معاملہ کرنا شروع کر دیا ہے اور ان کے ذمہ داروں کو کام کی چھٹی دینے پر مجبور کر دیا ہے جبکہ لبنانی قانونی دائرہ میں فلسطینی کارندوں کی کاروائیوں کو آسان بنانا شروع کر دیا ہے۔

     لبنانی بازاروں اور تجارتی دکانوں میں یہ بینر لگے ہیں جن میں لبنانی کارندوں کا مطالبہ ہے اور یہ اقدام اس مشن کے تحت کیا گیا ہے جسے حکومت نے غیر قانونی غیر ملکی کارندوں کے خلاف کیا ہے۔

      لبنان کی کام وزارت اداروں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ غیر ملکی کام کرنے والوں کو چھٹی کر دے اور وزارت کے تفتیش کار اس کی مخالفت کرنے والے اداروں کے خلاف فائل چارج کر رہی ہے اور ادارے والے یہ کہ رہے ہیں کہ ان کے یہاں کام کرنے والوں کو ابھی چھٹی نہیں ملی ہے کیونکہ ابھی کاروائیاں باقی ہیں اور اس میں کچھ وقت لگ سکتے ہیں اور اہل شام کے لئے منظوری نہیں مل سکتی ہے۔(۔۔۔)

جمعہ 23 ذی قعدہ 1440 ہجری – 26 جولائی 2019ء – شمارہ نمبر [14850]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>