عباس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ ہونے والا سیکیورٹی معاہدہ ختم - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 27 جولائی, 2019
0

عباس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ ہونے والا سیکیورٹی معاہدہ ختم

اسرائیلیوں کے ساتھ ہونے والے سیکیورٹی معاہدہ کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عباس کو دیکھا جا سکتا ہے

رام اللہ: الشرق الاوسط

      کل فلسطینی صدر محمود عباس نے مغربی کنارہ میں اسرائیلی قابض حکومت کی فوج کے ساتھ ہونے والے سیکیورٹی معاہدہ کی سطح کو کم سے کم مطلوبہ درجے تک لانے کے لئے اپنے سیکیورٹی ادارے کو احکامات دے دئے ہیں اور یہ فیصلہ ان فیصلوں کے ضمن میں ہے جو اسرائیل کے ساتھ ہوئے معاہدہ کے کام کو روکنے کے لئے فلسطینی حکومت نے لیا ہے اور ان مخالف جماعتوں نے اس فیصلہ کا استقبال کیا ہے جن میں سرفہرست حماس ہے اور اس نے اس معاہدہ سے نکلنے کے لئے اس سے بھی زیادہ سخت کاروائیاں  کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

     قابض حکومت کی طرف سے بیت المقدس کے قریب فلسطینی حکومت کے علاقہ میں فلسطینیوں کے گھروں کو ڈھائے جانے کے جواب میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے اور اس کے علاوہ تل ابیب نے فلسطینی حکومت کے مفاد میں آنے والی ٹیکس کی امدنی کو روک دیا ہے جس کی وجہ سے زبردست مالی بحران کا سامنا ہے اور یہ سب حکومت کے خلاف ان امریکی کاروائیوں کے بدلہ میں ہو رہا ہے جن میں واشنگٹن کے اندر آزادی کی فلسطینی تنظیم کے ہیڈکواٹر کو بند کر دیا گیا ہے اور اعلان کر دیا گیا ہے کہ بیت المقدس اسرائیل کی دار الحکومت ہے اور گولان پہاڑی اس کا ایک حصہ ہے اور مدد ایجنسی کی مدد کو روک دیا گیا ہے۔(۔۔۔)

ہفتہ 24 ذی قعدہ 1440 ہجری – 27 جولائی 2019ء – شمارہ نمبر [14851]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>