خالد فیصل: ہم حج کو سیاسی ببانے کو مسترد کرتے ہیں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 30 جولائی, 2019
0

خالد فیصل: ہم حج کو سیاسی ببانے کو مسترد کرتے ہیں


 

جدہ: عبد اللہ آل ھیضہ

     خادم حرمین شریفین کے مشیر کار، حج کی مرکزی کمیٹی کے صدر اور مکہ مکرمہ علاقہ کے امیر شہزادہ خالد الفیصل نے پرزور انداز میں کہا کہ سعودی عرب حج کو سیاسی رنگ دئے جانے کو مسترد کرتا ہے اور انہوں نے اپنے افسوس کا اظہار کیا کہ ایمانی سفر کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

     الفیصل نے الشرق الاوسط کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں کہا کہ ہم حاجیوں کا اہتمام اس وجہ سے کرتے ہیں کہ وہ حاجی ہیں، ان کی خدمت کا خیال اس طور پر کرتے ہیں کہ ہم حرمین شریفین کے خادم ہیں اور ہر ملک کے لوگ یہاں حج کرنے کے لئے آتے ہیں اور ہم سبھی کا استقبال کرتے ہیں اور ہر چیز کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ہم حج کی سلامتی کے حریص ہوتے ہیں اور ہم ہر طرح کی سہولت پیش کرتے ہیں تاکہ یہ ایمانی سفر خراب نہ ہو سکے۔

     انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب حج کو سیاسی رنگ دینے کو مسترد کرتا ہے اور اس عظیم اسلامی رکن کو سیاسی یا کسی اور رنگ میں رنگنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے اور ہم اس ملک میں کسی چیز کی طرف دیکھے بغیر مکمل طور پر مسلمانوں کے تئیں اپنی ذمہ داری ادا کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔(۔۔۔)

منگل 27 ذی قعدہ 1440 ہجری – 30 جولائی 2019ء – شمارہ نمبر [14854]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>