مشرقی فرات کے پرامن علاقہ کے لئے امریکی اور ترکی انتظامیہ مستعد - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 8 اگست, 2019
0

مشرقی فرات کے پرامن علاقہ کے لئے امریکی اور ترکی انتظامیہ مستعد

ترکی وزیر دفاع خلوصی اکار کو دیکھا جا سکتا ہے

        انقرہ نے مشرقی شام کے شمال میں پرامن علاقہ کی انتظامیہ کے لئے کاروائیوں کی مشترکہ مرکز قائم کرنے کے لئے واشنگٹن کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ بیان امریکی ذمہ داروں کے ساتھ پرکشید مذاکرات کے تین دنوں کے بعد آیا ہے اور یہ امید کی جارہی ہے کہ مشرقی شام کے شمال میں واقع دوردراز حصوں پر قبضہ کرنے والی کرد پر مشتمل عوام کی حمایتی یونٹس پر ترکی کی طرف سے حملہ نہ ہو۔

       ترکی کی وزارت دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انقرہ نے امریکی ذمہ داروں کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہے کہ سب سے پہلے ترکی کے اندیشوں کو ختم کرنے کے مقصد سے پہلی کاروائیاں کی جائیں اور اس دائرہ میں ریاستہائے متحدہ کے ساتھ مل کر پرامن علاقہ کی انتظامیہ کو منظم کرنے اور بہت جلد ترکی کے اندر ایک مشترکہ مرکز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

      اس بیان میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ اس کا آخری مقصد ایک پرامن راستہ فراہم کرنا ہے جس کے ذریعہ ہمارے شامی بھائی اپنے ملک واپس ہو سکیں۔(۔۔۔)

جمعرات 07 ذی الحجہ 1440 ہجری – 08 اگست 2019ء – شمارہ نمبر [14863]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>