جنوبی عبوری کونسل کو عتق کی جنگ میں سکشت کا سامنا - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 24 اگست, 2019
0

جنوبی عبوری کونسل کو عتق کی جنگ میں سکشت کا سامنا

ابین گورنریٹ کے اندر جنوبی عبوری کونسل کی فورسز کی مشین کو دیکھا جا سکتا ہے

عدن: علی ربیع ۔ ریاض: عبد الہادی حبتور

       کل عتق کی وہ جنگ ختم ہو گئی جس میں جنوبی عبوری کونسل کی فورسز کو سکشت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ یمن کا جنوبی علاقہ شمال سے علاحدہ ہو گیا تھا۔ ایک طرف عبوری کونسل کے رہنماؤں نے اپنی سکشت کا اعتراف کیا ہے تو دوسری طرف مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ انہوں نے یافع، الضالع اور عدن میں موجود اپنی ہمنوا فورزس کی طرف سے غیر معمولی امداد حاصل کرنا شروع کر دیا ہے اور اب امید ہے کہ تقریبا جس طرح دو ہفتے قبل وقتی دار الحکومت عدن میں سرکاری اداروں اور فوجی ہیڈکوارٹروں پر حملے ہوئے ہیں اسی طرح اب عتق شہر پر کنٹرول کرنے کی دوبارہ کوشش ہوگی۔

      سرکاری فورسز نے سواریوں کے اڈوں پر اپنا کنٹرول کر لیا ہے، شہر اور اس میں داخل ہونے کے تمام راستوں کو پرامن بنا دیا ہے اور اسی طرح عبوری فورسز کو بھی مار بھگایا ہے لیکن یہ سب عتق شہر میں علیحدہ افراد کی طرف سے ہونے والی جنگ کے بعد ہوا ہے اور یاد رہے کہ عتق شہر عدن کے مشرقی شمال میں واقع شبوہ نامی گورنریٹ کی دار الحکومت ہے۔(۔۔۔)

ہفتہ 23 ذی الحجہ 1440 ہجری – 24 اگست 2019ء – شمارہ نمبر [14879]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>