سعودی عرب کی طرف سے عدن کے فتنہ کی تردید اور گفت وشنید کی دعوت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 6 ستمبر, 2019
0

سعودی عرب کی طرف سے عدن کے فتنہ کی تردید اور گفت وشنید کی دعوت

سعودی عرب کے دو شہروں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے چھوڑے جانے والے ہتھیار کے باقی ماندہ حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کے اسسٹنٹ وزیر ڈیوڈ چینکر کو دیکھا جا سکتا ہے

الخرج (سعودی عرب): محمد العائض ۔ ریاض ۔ عدن: الشرق الاوسط

        سعودی عرب نے بڑی شدت کے ساتھ اس فتنہ کی تردید کی ہے جو عدن کے اندر یمنی فریق کے درمیان برپا ہوا ہے اور کسی فوجی کشیدگی یا جانبی جنگ کے آغاز سے آگاہ کیا ہے جس سے ایران کی طرف سے مدد کردہ دہشت گرد حوثی میلیشیاؤں اور تنظیم داعش اور القاعدہ کے علاوہ کسی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔

       کل سعودی عرب کی نیوز ایجنسی کے ذریعہ نشر کردہ خبر میں مملکت نے قانونی حکومت کے ساتھ ساتھ جن فریق کے درمیان یہ فتنہ برپا ہوا ہے ان سب کو بغیر تاخیر فوری طور پر جدہ کی گفت وشنید میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور بغیر کسی شرط فوری طور پر جنگ بندی اور کشیدگی ختم کرنے کی پابندی کی ضرورت پر تاکید کیا ہے۔

       اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاض نے حالیہ کشیدگی اور واقعات جس سمت جارہے ہیں اور ان سب پر جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں ان سب کی مکمل تردید کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ کشیدگی ختم کرکے اس کی طرف سے دی جانے والی گفت وشنید کی دعوت کو قبول نہیں کیا جا رہا ہے اور اس نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ قانونی حکومت کی سول اور فوجی اداروں کے ہیڈکواٹر اور فوجی ہیڈکواٹر کو واپس حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔(۔۔۔)

جمعہ 07 محرم الحرام 1441 ہجری – 06 ستمبر 2019ء – شمارہ نمبر [14892]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>