تہران کے ایک خفیہ اسٹور میں یورینیم کے آثار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 9 ستمبر, 2019
0

تہران کے ایک خفیہ اسٹور میں یورینیم کے آثار

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کارنیل ویروٹا کو گزشتہ روز تہران میں ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)

لندن: «الشرق الاوسط»

       بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنے سے واقف سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایجنسی نے تہران کے ایک مقام سے جو نمونہ لیا ہے اس کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نٹن یاہو نے کہا کہ یہ خفیہ جوہری ذخیرہ ہے اور اس نے یورینیم کے آثار کی موجودگی کو ظاہر کیا ہے اور ایران نے ابھی تک اس کی وضاحت نہیں کی ہے۔

      خبر رساں ادارے روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایجنسی یورینیم کے ذرات کے پائے جانے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ایران سے اس کی وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے لیکن تہران نے ایسا نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن کے ساتھ تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

      اپریل میں نٹن یاھو نے تہران کے جنوب میں ایک مقام پر ایران کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق دستاویزات کے سب سے بڑے درجہ بند دستاویزات کے بارے میں بیان کیا ہے۔

پیر 10 محرم الحرام 1441 ہجری – 09 ستمبر 2019ء – شمارہ نمبر [14895]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>