روس اور اسرائیل شام میں اپنے افہام وتفہیم کے لئے تیار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 13 ستمبر, 2019
0

روس اور اسرائیل شام میں اپنے افہام وتفہیم کے لئے تیار

روسی صدر پوٹن کو کل نٹن یاہو کا استقبال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

ماسکو: رائد جبر

       گذشتہ روز سوچی میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نٹن یاہو کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ شام میں فوجی اور سیکیورٹی سطح پر ماسکو اور تل ابیب کے مابین افہام وتفہیم ہونے والا ہے۔

     پوٹن نے پر زور انداز میں کہا کہ بین الاقوامی دہشت گردی کے مسلسل خطرہ کا مقابلہ کرنے کے سلسلہ میں روس اور اسرائیل کے درمیان سلامتی اور فوجی باہمی رابطے بہت اہم ہیں اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ہمارے تعلقات کو خواہ سلامتی مبدان میں ہوں یا فوجی میدان آپ کی کوششوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ایک نیا معیار حاصل ہوا ہے۔

     اس اشارہ کی وجہ سے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں نٹن یاہو کو براہ راست حمایت ملے گی کیونکہ نٹن یاہو نے اشارہ کیا ہے کہ اسرائیل میں پندرہ لاکھ سے زیادہ افراد سابق سوویت یونین سے ہیں اور اسی وجہ سے روس اہتمام کے ساتھ انتخاباتی مہم کا مشاہدہ کر رہا ہے۔(۔۔۔)

جمعہ 14 محرم الحرام 1441 ہجری – 13 ستمبر 2019ء – شمارہ نمبر [14899]

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>