ماسکو اور طہران نے کھولا بغداد اور دمشق کے درمیان " تجارتی گزرگاہ" سعودی عرب نے شام میں ایران کی "صریح مداخلت" کو کیا مسترد ... اور امریکہ "اسد حکومت کو الگ تھلگ" کرنے پر کاربند ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 1 اکتوبر, 2019
0

ماسکو اور طہران نے کھولا بغداد اور دمشق کے درمیان ” تجارتی گزرگاہ” سعودی عرب نے شام میں ایران کی "صریح مداخلت” کو کیا مسترد … اور امریکہ "اسد حکومت کو الگ تھلگ” کرنے پر کاربند ہے

کل ( اقوام متحدہ) کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران پیڈرسن کو دیکھا جاسکتا ہے

بغداد- نیو یارک- لندن: ” الشرق الاوسط

عراقی اور شامی حکومت نے روس اور ایران کی مدد سے دونوں ملکوں کی سرحد پر بوکمال نامی علاقے میں واقع اسٹراٹیجک گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، اس سے قبل یہ گزرگاہ تنظیم داعش کے خلاف جنگ کے سبب پانچ سالوں سے بند تھا۔ کل پہلا ٹرک اس گیٹ سے ہوکر گزرا ہے جو عراق کے ساتھ شامی حکومت کے کنٹرول میں تنہا گیٹ سمجھا جاتاہے ۔ مبصرین کے مطابق روسی فوجی مداخلت کے آغاز کے ساتھ ہی اسکے پانچویں سال آج بوکمال- قائم کی گزرگاہ کا کھلنا ایک طرف داعش کی طرف سے ہٹائ گئی سرحدی پابندیوں کے از سرِ نو نفاذ کا اشارہ کرتا ہے ، اور دوسری طرف تہران بغداد، دمشق اور بیروت کو جوڑنے والے خشکی کے راستہ کے سلسلے میں ماسکو کی حمایت کر رہا ہے۔ دوسری جانب ، اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے عبد اللہ بن یحیی المعلمی نے اقوام متحدہ کے نمائندے گیڈ پیڈرسن کی موجودگی میں کل منعقد میٹنگ کے دوران شامی آئینی کمیٹی کی تشکیل کے معاہدے تک رسائی حاصل کرنے کو خوش آمدید کہا ہے۔(…)(منگل 2 صفر 1441 ہجرى/ 1  اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>