عرب نے کی ترک "جارحیت" کی مذمت اور تعلقات کم کرنے کے لئے پیش کئے تجویز - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: اتوار, 13 اکتوبر, 2019
0

عرب نے کی ترک "جارحیت” کی مذمت اور تعلقات کم کرنے کے لئے پیش کئے تجویز

گذشتہ روز شام کے شمال مشرق کے قصبے تل تمر میں حصول امداد کی منتظر راس العین کی جنگوں سے فرار ہونے والی خواتین کو دیکھا جاسکتا ہے (ا۔ف۔ب(

قاہرہ: سوسن ابو حسین – انقرہ: سعید عبد الرازق

عرب وزرائے خارجہ کی کونسل نے گزشتہ روز قاہرہ میں ہوئے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر شام کے شمال مشرق پر ترکی کی جارحیت کی مذمت کی، اور انقرہ کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات کم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ جامعہ دول عربیہ کے جنرل سکریٹری احمد ابوالغیط نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ، "جارحیت کے سلسلے میں عرب وزارتی وفد کا سلامتی کونسل کے لئے ممکنہ دورہ ہوسکتا ہے۔” اور انہوں نے اجلاس میں عرب اتفاق رائے پر قطر اور صومالیہ کے ریزرویشن کی طرف بھی اشارہ کیا۔ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے بین الاقوامی برادری کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور ترک کارروائیوں کو فور طور پر روکنے کے لئے کوششوں کو دوگنا کردیں، انہوں نے کہا کہ یہ کاروائیاں شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ پیدا کررہی ہیں۔ (…)(اتوار  14  صفر 1441 ہجرى/ 13  اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>