سفارت کاری اور پابندیوں کے ذریعہ انقرہ پر امریکی دباؤ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 17 اکتوبر, 2019
0

سفارت کاری اور پابندیوں کے ذریعہ انقرہ پر امریکی دباؤ

شام کے شمال مشرق کے قصبہ تل تمر میں ترک بمباری سے اٹھ رہے دھواں سے بچنے کے لئے ایک شامی عورت کو اپنا چہرہ ڈھانپ تے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔(ا۔ف۔ب)

واشنگٹن: ایلی یوسف – انقرہ: سعید عبد الرازق – ماسکو: رائد جبر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سفارتی دباؤ اور پابندیوں کا استعمال کرتے ہوئے شام کے شمال مشرق پرترکی کی طرف سے ہوئے حالیہ حملے کے ردعمل کے لئے اقدامات تیز کردی ہیں۔ ٹرمپ نے عزم کیا ہے کہ اگر آج نائب صدر مائک پینس اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کی ملاقات ناکام ہوئی تو وہ پابندیوں کے ذریعہ ترک معیشت کو تباہ کردیں گے ۔ امید کی جارہی ہے کہ سینیٹ آج ترکی کے خلاف پابندیوں کے حق میں ووٹ ڈالے گا، جبکہ انتظامیہ نے سینئر عہدیداروں کو انقرہ بھیجا ہے تاکہ وہ اس حملے کو روکنے کے لئے ترکی کو راضی کرسکیں ۔ تاہم، اردغان نے آج پینس اور امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کے ساتھ اپنی متوقع ملاقات کو پہلے ہی اس بات پر زور دیتے ہوئے صاف کردیا ہے کہ امریکی پابندیوں سے فوجی آپریشن کے آگے بڑھنے کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ (…)(جمعرات  18  صفر 1441 ہجرى/ 17  اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>