لبنان ہوا مفلوج۔۔۔ حکومت تحریک کے سامنے بے بس - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 24 اکتوبر, 2019
0

لبنان ہوا مفلوج۔۔۔ حکومت تحریک کے سامنے بے بس

لبنانی فوج کی فورسز کو گزشتہ روز جل دیب میں مظاہرین کو شاہراہ پر داخل ہونے سے روکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے (روئٹرز)

لندن: ہدی الحسینی – بیروت: نذیر رضا

لبنان کے بڑے حصوں میں ہونے والے مظاہروں نے ملک کو مفلوج کردیا ہے ، جس کی وجہ سے فوج کو سڑکیں کھولنے میں مداخلت کرنی پڑی ، جبکہ غیر معمولی بحران سے باہر نکلنے کے راستے کے سلسلے میں اختلاف رائے اور بات چیت نا کر پانے کی وجہ سے حکومت پریشان ہے۔ لبنانی سیاسی ذرائع نے الشرق الاوسط کو بتایا کہ حکومت نے وزیر اعظم سعد حریری کے اعلان کردہ اصلاحی پیپر کے ذریعے لوگوں کے مطالبات کے جوابات دیئے ، لیکن دوسری طرف ، "متنازعہ اور غیر متفقہ مطالبات کے درمیان ، کوئی بھی حکومت سے بات چیت کرنے اور ڈائیلاگ کے لئے تیار نہیں ہے۔” "کیا ہم بھوتوں سے بات کر رہے ہیں؟” حکومت نے پوچھا۔ حل کی کوششوں کی ناکامی کابینہ میں ردوبدل کی تجاویز کے ناکام ہونے کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے ،اگر ان تجاویز میں وزیر خارجہ جبران باسل شامل ہوجائیں، تو ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی اس میں مخالفت نہیں کرے گی ، لیکن حزب اللہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ (…)(جمعرات 25  صفر 1441 ہجرى/ 24  اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>