"حماس" نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے 7 خواتین اور بچوں اور 3 لاشوں کے بدلے میں جنگ بندی کرنے سے انکار کر دیا ہے

حماس کے جنگجو اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کے تحت کل یرغمالیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کر رہے ہیں (روئٹرز)
حماس کے جنگجو اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کے تحت کل یرغمالیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کر رہے ہیں (روئٹرز)
TT

"حماس" نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے 7 خواتین اور بچوں اور 3 لاشوں کے بدلے میں جنگ بندی کرنے سے انکار کر دیا ہے

حماس کے جنگجو اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کے تحت کل یرغمالیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کر رہے ہیں (روئٹرز)
حماس کے جنگجو اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کے تحت کل یرغمالیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کر رہے ہیں (روئٹرز)

تحریک "حماس" نے کہا ہے کہ اسرائیل نے آج جمعرات کے روز تک عارضی جنگ بندی میں توسیع کے بدلے میں 7 خواتین اور بچوں کے علاوہ غزہ پر اسرائیلی بمباری میں ہلاک پونے والے 3 افراد کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تحریک نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی انکار "ہماری جانب سے ثالثوں کے ذریعے تصدیق کرنے کے باوجود ہے کہ اتفاق کیے گئے زمرے میں شامل قیدیوں کی یہی کل تعداد ہے، جس تک تحریک پہنچ پائی ہے۔"

لیکن اسرائیل کی جانب سے اس پر فوری کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

معاہدے کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی آج صبح سات بجے ختم ہو جائے گی۔

تحریک "حماس" کے عسکری ونگ نے اس سے قبل غزہ کی پٹی میں اپنے جنگجوؤں سے کہا تھا کہ اگر عارضی جنگ بندی میں توسیع نہ کی گئی تو وہ اسرائیل کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے تیار رہیں۔  تحریک نے ایک بیان میں کہا کہ "القسام بریگیڈز اپنی فعال افواج سے جنگ بندی کے آخری گھنٹوں میں اعلیٰ جنگی تیاریوں کو برقرار رکھنے کا کہا ہے۔"

"القسام" نے مزید کہا کہ جنگجو "اپنی پوزیشن پر قائم رہیں، جب تک کہ جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق کرنے والا کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا جاتا۔"

جمعرات-16 جمادى الأولى 1445ہجری، 30 نومبر 2023، شمارہ نمبر[16438]



وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے
TT

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

"پروفیشنل ایکریڈیٹیشن" پروگرام کے تحت وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے ان تمام منتخب کردہ ممالک کا احاطہ مکمل کر لیا ہے جو پروفیشنل ویریفکیشن کے ذریعے مزدور برآمد کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی افرادی قوت کی مہارتوں کے میعار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ ہدف وزارت خارجہ کے تعاون سے 160 ممالک میں مکمل کر لیا گیا۔

یہ سروس کابینہ کی قرارداد نمبر 195 کے مطابق ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مملکت میں داخل ہونے سے پہلے تارکین وطن افراد کے پاس سعودی لیبر مارکیٹ کے عین مطابق قابل اعتماد تعلیمی قابلیت، عملی تجربہ اور اپنے پیشے میں مہارت ہو۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" سروس کی مرکزی توجہ افرادی قوت کی متعلقہ شعبے میں میعاری تعلیمی قابلیت اور انتہائی ہنر مند پیشوں میں مہارت ہے۔ واضح رہے کہ یہ عمل سعودی عرب کے منظور شدہ درجہ بندی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے جیسے کہ سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف پروفیشنز اور سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف ایجوکیشن لیولز اینڈ سپیشلائیزیشنز ۔ یہ سروس مکمل طور پر خودکار ہے اور یہ آسان اور تیز رفتار طریقہ کار کے ساتھ ایک مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے پیشہ ورانہ تصدیق کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کے دوران وزارت برائے انسانی وسائل نے 1,007 پیشوں کا احاطہ مکمل کیا جس میں دنیا بھر سے تمام مزدور برآمد کرنے والے ممالک شامل ہیں ۔ وزارت متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر انتہائی ہنر مند پیشوں کو شامل کرنے کا کام جاری رکھے گی جو سعودی یونیفائیڈ کلاسیفکیشن کے مطابق گروپ 1-3 میں آتے ہیں۔ ان پیشوں میں انجنیئرنگ، صحت سے منسلک شعبے بھی شامل ہیں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی کا مقصد اس سروس کے ذریعے لیبر مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنا، لیبر مارکیٹ میں ملازمتوں اور سروسز کو بہتر بنانا اور پیداوار کے معیار کو بڑھانا ہے۔