گورباچوف کی تاریخی غلطی پر روسی تنقید

گورباچوف کی تاریخی غلطی پر روسی تنقید

جمعرات, 7 November, 2019 - 11:45
4 نومبر 1989 کو مظلومیت کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے مشرقی برلن میں واقع الیکسنڈر میدان میں جمع ہونے والے ملین مظاہرین کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے
        ماسکو میں سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچوف کے ان اقدامات کے سلسلہ میں وسیع پیمانہ پر تنازعہ دیکھنے میں آیا ہے جن کی وجہ سے تین دہائیاں قبل برلن کی دیوار گری تھی اور ان کی وجہ  سے سرد جنگ اور دو طرفہ پن کے خاتمہ کا راستہ ہموار ہوا۔
        گورباچوف کی 30 سالہ پرانی پالیسی کو حالیہ ہفتوں میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ سمجھا گیا کہ اس وقت مغربی ممالک کے ساتھ معاملات کرنے میں سوویت قیادت نے شدید غلطیاں کی ہیں اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اس قیادت نے مغربی وعدوں کو پورا کرنے کے سلسلہ میں سادگی کا رخ اختیار کیا ہے اوریاد رہے کہ روسی صدر کو گورباچوف کی کارکردگی پر کبھی بھی تنقید کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ہے۔
       پوٹن نے کہا کہ سابق سوویت رہنما نے سوویت اثر ورسوخ میں آنے والے ملکوں کے ذریعہ مشرق میں نیٹو کو بڑھاوا نہ دینے سے متعلق تحریری گارنٹی کا مطالبہ نہ کرکے غلطی کی ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوویت یونین نے مغرب کے روشن وعدوں کے ساتھ جس سادگی کا سلوک کیا ہے اس سے نیٹو کو وسعت دینے اور روس کو فوجی طور پر گھیرنے کی کوشش کی راہیں کھل گئی ہیں۔(۔۔۔)
جمعرات 10 ربیع الاول 1441 ہجرى - 07 نومبر 2019ء شماره نمبر [14954]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا