بغداد میں ملین افراد کے نکلنے کے موقع پر تشدد اور وعدے

بغداد میں ملین افراد کے نکلنے کے موقع پر تشدد اور وعدے

عراقی دار الحکومت میں ہلاکتیں اور نجف میں ہڑتال اور بدعنوانی کی فائلوں کے سلسلہ میں عدالتی کارروائی
جمعہ, 15 November, 2019 - 08:45
عراقی مظاہرین کو گذشتہ روز ورلڈ کپ کوالیفائیرز کے آغاز میں ایرانی ٹیم کے مقابلہ اپنے ملک کی ٹیم کو 1/2 سے ملنے والی کامیابی پر بغداد کے تحریر اسکوائر میں جشن مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
        عراقی سیکیورٹی فورسز نے دار الحکومت بغداد میں مظاہرین کی طرف سے بلائے گئے "ملین مارچ" کا مقابلہ کرنے کی کوشش  کی ہے جس میں کم از کم چار مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں اور اسی کے ساتھ مقابلہ کے جمعہ کی شام نجف شہر میں ایک عام ہڑتال بھی ہو رہا ہے۔
        سیکیورٹی اور طبی ذرائع نے بتایا کہ چار افراد ہلاک اور 52 زخمی اس وقت ہوگئے جب سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو وسطی بغداد میں اپنے مرکزی کیمپ کی طرف لوٹنے کے لئے آمادہ کیا اور ان ذرائع نے یہ بھی وضاحت کی کہ مظاہرین میں سے تین افراد کو براہ راست سر میں آنسو گیس لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جب کہ چوتھے فرد نے سیکیورٹی فورسز کے ذریعہ فائر کیے جانے والے صوتی بم سے زخمی حالت میں اسپتال کے اندر دم توڑ دیا۔
        سیاسی رہنماؤں کے ذریعہ پیش کردہ حل ان مظاہرین کے نقطہ نظر سے ابھی بھی بے سود ہیں جو سڑک پر اپنا دوسرا مہینہ تقریبا مکمل کرنے والے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اصلاحات کے سلسلہ میں کئے گئے وعدوں سے مظاہرات کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا اور ا بان کے مطالبات اس موجودہ سیاسی نظام کو ختم کرنا ہے کیونکہ اب سارے راستے بند ہو چکے ہیں۔(۔۔۔)
ج
معہ 18 ربیع الاول 1441 ہجرى - 15 نومبر 2019ء شماره نمبر [14962]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا