ایران میں زبردست مظاہرے اور ایک سیاسی جنگ کا آغاز

ایران میں زبردست مظاہرے اور ایک سیاسی جنگ کا آغاز

کرمانشاہ میں ایک پولیس اہلکار کی موت ۔۔ خامنئی کی طرف سے "انقلاب کے دشمنوں" پر الزام عائد اور روحانی کی طرف سے "پولس چھاؤنی" کی دھمکی
پیر, 18 November, 2019 - 15:00
گذشتہ روز تہران میں مظاہرہ کے دوران عوامی گاڑیوں کو جلائے جانے کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے
        ایران میں ایندھن کے مظاہرے مسلسل تیسرے دن بھی جاری رہے اور اس مظاہرہ نے ایک نیا سیاسی موڑ اس وقت لیا جب  شرکاء کی تعداد بڑھ گئی اور اس کا دائرۂ کار وسیع ہو گیا اور انہوں نے حکومت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور اسی طرح پولس اہلکار کے ذریعہ ہونے والی تشدد کے نتیجے میں ہلاک شدگان اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔
        ایران کے اعلی رہنما علی خامنئی نے مظاہروں کی ذمہ داری "انقلاب دشمنوں" کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے فیصلے کی حمایت کی ہے جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ فسادات کی حالت میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لاقانونیت کی اجازت نہ دے۔
         فارس ایجنسی نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی ادارہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تخریب کار کارروائیوں کا بھرپور جواب دیں گا اور واقعی میں اس نے ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار بھی کیا ہے اور ایرانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ تہران کے خامنئی اسکوائر اور دیگر شہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے سیکیورٹی فورسز کے ذریعہ براہ راست گولہ بارود اور آنسو گیس فائر کرنے کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد 36 سے 75 کے درمیان ہے اور یاد رہے کہ اس مظاہرہ کو پٹرول کی بغاوت کا نام دیا گیا ہے۔(۔۔۔)
پیر 21 ربیع الاول 1441 ہجرى - 18 نومبر 2019ء شماره نمبر [14965]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا