پاسداران انقلاب کی طرف سے مظاہرین کو انقلابی اقدامات کی دھمکی

پاسداران انقلاب کی طرف سے مظاہرین کو انقلابی اقدامات کی دھمکی

تہران کی طرف سےجوہری معاہدہ کے "بھاری پانی" کی شق کی خلاف ورزی
منگل, 19 November, 2019 - 06:15
ایران کے مرکزی شہر اصفہان میں مظاہروں کے دوران جلے ہوئے ایک بینک کے سامنے اہل ایران کو دیکھا جا سکتا ہے
         ایران نے بدھ کے روز پٹرول کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے فیصلے کے خلاف جاری مظاہروں کا اعتراف کیا ہے اور حکومت نے ملک میں ابھی تک انٹرنیٹ کی خدمات کو بند رکھا ہے جبکہ پاسداران انقلاب نے احتجاج ختم کرنے کے لئے انقلابی اقدامات کرنے کی دھمکی دی ہے۔
        فرانس پریس ایجنسی نے بتایا ہے کہ ان مظاہروں میں جنہیں کچھ مظاہرین پٹرول انقلاب کا نام دے رہے ہیں ان میں مرکزی سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے اور انہیں کے درمیان بینکوں کو جلانے اور دکانوں کو لوٹنے کی خبر ملی ہے جبکہ حکومت نے دو افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے اور بہت ساری اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 12 اور 25 کے درمیان ہے  اور اس کے علاوہ درجنوں بلکہ ممکنہ طور پر سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔
         اسی سلسلہ میں پاسداران انقلاب نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ اگر وہ احتجاجات بند نہیں کریں گے تو ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی اور ایران کے اہم بھاری مسلح سکیورٹی پاسداران انقلاب نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری ایک بیان میں کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو ہم امن وسلامتی کو غیر مستحکم بنانے والے ہر اقدام کے خلاف فیصلہ کن اور انقلابی کارروائی کریں گے اور اس خبر کو روئیٹرز نے بھی پیش کیا ہے۔(۔۔۔)
منگل 22 ربیع الاول 1441 ہجرى - 19 نومبر 2019ء شماره نمبر [14966]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا