لبنان میں شیعہ اتحاد کی طرف سے فوج کے موقف کو تنقید کا سامنا

لبنان میں شیعہ اتحاد کی طرف سے فوج کے موقف کو تنقید کا سامنا

جمعرات, 21 November, 2019 - 13:30
پرسو مرکزي بیروت میں سیکیورٹی اہلکار کو پارلیمنٹ کے قریب مظاہرین کا مقابلہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
       لبنان میں (حزب اللہ اور تحریک امید) کے اتحاد کی طرف سے پارلیمنٹ کی طرف جانے والی سڑکوں کی بندش کے باعث ہونے والی عوامی تحریکوں کی وجہ سے ایک روز قبل ہی قانون ساز اجلاس کی منسوخی پر فوج اور سیکیورٹی فورسز کو تنقیدات کا مسلسل سامنا ہے۔
       پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری اور وزیر خزانہ علی حسن خلیل کی طرف سے سڑکیں کھولنے میں ناکام ایجنسیوں پر لعنت وملامت کرنے کے بعد ان وعدوں کی طرف اشارہ کیا جو ابھی پورے نہیں ہوئے ہیں اور حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی عمار نے ایک بار پھر اس معاملے کو اٹھایا ہے اور بری سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم نے فوجیوں اور افسران کو دیکھا ہے کہ وہ چوکیوں پر ارکان پارلیمنٹ کی توہین کو دیکھ رہے ہیں اور اف تک نہیں  کر رہے ہیں۔
        اسی سلسلہ میں ترقی اور آزادی کے رکن پارلیمنٹ علی خریس نے الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ اگر ہم سڑک کھولنا چاہتے تو ہم سو سڑکیں کھول دیتے لیکن ہم بغاوت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔(۔۔۔)
جمعرات 24 ربیع الاول 1441 ہجرى - 21 نومبر 2019ء شماره نمبر [14968]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا