نیٹن یاہو پر رشوت اور دھوکہ دہی کا الزام عائد

نیٹن یاہو پر رشوت اور دھوکہ دہی کا الزام عائد

نو سال تک قید کا امکان اور ابھی مقدمے کی کارروائی جاری
جمعہ, 22 November, 2019 - 09:45
اسرائیلی اٹارنی جنرل ایویچائی منڈلبلٹ کو گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران نیٹن یاہو پر فرد جرم عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
        اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیٹن یاہو کو پیر کے روز ایک ممکنہ مہلک ضرب کاری کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب سرکاری اٹارنی جنرل نے نیٹن یاہو کے خلاف رشوت، دھوکہ دہی اور بے ایمانی کا الزام عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
       انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ انہوں نے نیٹن یاہو اور درجنوں گواہوں کے ساتھ کی جانے والی تحقیقات کی فائلوں کے گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد فیصلہ لیا ہے اور انہوں نے ان الزامات کو بہت سنگین بتایا ہے اور اسرائیل کو ماضی میں کبھی بھی اس طرح کے الزامات کا علم نہیں ہوا ہے اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پولیس نے نتن یاہو کے متعدد قریبی ساتھیوں اور سابق مشیروں کے ساتھ چند معاہدوں پر دستخط کیی ہے اور اسی نے ثبوت کو بہت مضبوط بنا دیا ہے۔   
        نیٹن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بغاوت کی کوشش ہے اور انہوں نے زور دے یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کے اہل خانہ کے خلاف یہ سنگین سازش ہے اور انہوں نے عدالت میں ثابت شدہ حقائق کے ذریعہ ان الزامات کا مقابلہ کرنے کا عہد کیا ہے تاکہ یہ  الزامات ایک ایک کرکے ختم ہو جائیں اور ان الزامات میں کاروباری سہولیات کی فراہمی کے لئے رشوت لینے کے ساتھ ساتھ ان کی طرف سے مثبت میڈیا کوریج کے لئے دی جانے والی مراعات میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔
جمعہ
25 ربیع الاول 1441 ہجرى - 22 نومبر 2019ء شماره نمبر [14969]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا