فرات کے مشرق میں کرد انتظامیہ کے اندرون میں زبردست لڑائیاں

فرات کے مشرق میں کرد انتظامیہ کے اندرون میں زبردست لڑائیاں

اتوار, 24 November, 2019 - 14:30
گذشتہ روز شام کے شمال مشرقی علاقے تل ابیض میں بلاسٹ ہونے والی کار کے قریب ایک شخص کو کھڑا دیکھا جا سکتا ہے
        کل عین عیسی نامی اس قصبے کے قریب شامی عرب کرد ڈیموکریٹک فورسز اور ترکی کی طرف سے حمایت یافتہ شامی گروہوں کے مابین زبردست لڑائیاں ہوئی ہیں جسے فرات کے مشرق میں ذاتی انتظامیہ کا دل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں صدر دفتر اور ان علاقوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مراکز ہیں۔
        حقوق انسان کی شامی رصدگاہ نے کہا ہے کہ عین عیسی کے اسٹریٹجک قصبے میں شدید لڑائیاں ہوئی ہیں کیونکہ شامی عرب کرد ڈیموکریٹک فورسز ترکی کی افواج اور ان کے حامی شامی جماعتوں کی پیشرفت کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
       ترکی اور اس کے حامی جماعتوں نے شمال مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف نو ماہ تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد رقہ کے شمال میں تل ابیض اور حسکہ کے شمال میں راس العین نامی شہروں کے درمیان 120 کلو میٹر کے طویل سرحدی علاقے پر اثر ورسوخ ثابت کر لیا ہے۔(۔۔۔)
اتوار 27 ربیع الاول 1441 ہجرى - 24 نومبر 2019ء شماره نمبر [14971]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا