حریری مقابلہ سے باہر اور فیصلہ عون کے ہاتھ میں

حریری مقابلہ سے باہر اور فیصلہ عون کے ہاتھ میں

بدھ, 27 November, 2019 - 12:30
کل صدر مائکل عون کو وزیر سلیم جریصاتی کی موجودگی میں بیروت کے روسی سفیر الیگزینڈر زسیپکن کا استقبال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
         لبنان کے سبکدوش وزیر اعظم سعد حریری نے اگلی حکومت کی صدارت کو قبول نہ کرنے کا پرعزم فیصلہ کرتے ہوئے صدر مائکل عون کو ہر چیز کا ذمہ دار بنا دیا ہے اور انہوں نے اس معاملہ میں اس قاعدہ کو اختیار کیا ہے کہ اگر میں نہیڑ تو کوئی اور اس کی ذمہ داری سنبھالے اور حریری نے ایک بیان میں کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ابھی ہر طرف انکار کی بات ہو رہی ہے اور اسے حل کرنے کے لئے جو میری تجاویز ہیں انہیں صرف ایک ذریعہ بنا کر اپنے کاموں میں مشغول رہا جائے اور صحیح لوگوں کے مطالبات کو ہرگز نہ سنا جائے اور اس ذمہ داری تاخیر سے تشکیل ہونے والی حکومت پر ڈا لدی جائے۔
        اس مقابلہ سے حریری کے نکلتے اور ان کے متبادل شخصیت کی تلاش شروع ہوتے ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ ابھی جو رجحان ہے وہ ٹیکنو سیاسی حکومت تشکیل دینے کی ہے۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ان 20 وزراء پر مشتمل حکومت تشکیل کرنے کا ارادہ ہے جن میں 16 ٹیکنوکریٹس شخصیات ہوں گی اور چار سیاستداں بغیر کسی پاکٹ یعنی ملک کے وزیر ہوں گے اور کل انجینئر سمیر الخطیب کا نام صدارت کے لئے وسیع پیمانے پر گردش کر رہا تھا۔
        یہ سب ایسے وقت میں ہوا ہے جب گذشتہ دوپہر صدارتی محل کے راستے پر "فری پیٹریاٹک موومنٹ" کے حامیوں اور مظاہرین اور بعلبک کے شہر میں "حزب اللہ" اور "امید کی تحریک" کے حامیوں اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں اور شام کے وقت 24 گھنٹے تک دھرنہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے مظاہرین نے بیروت کے  بینک کے آس پاس احاطہ میں پہنچنا شروع کر دیا تھا۔
بدھ 30 ربیع الاول 1441 ہجرى - 27 نومبر 2019ء شماره نمبر [14973]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا