عبد المہدی کی حکومت اور ناصریہ قتل عام

عبد المہدی کی حکومت اور ناصریہ قتل عام

ذی قار میں فوجی کمانڈر کی برطرفی اور نجف میں کشیدگی جاری اور صدر کی طرف سے عراق کے آغاز اور خاتمہ سے انتباہ
جمعہ, 29 November, 2019 - 17:15
گذشتہ روز جنوبی عراق کے شہر ناصریہ میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
        مقدس شہر نجف میں طوفانی رات کے چند گھنٹوں بعد مظاہرین نے ایرانی قونصل خانہ کو نذر آتش کر دیا ہے اور عادل عبد المہدی کی حکومت کو اب ایک نئی الجھن کا سامنا ہے کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے عبد المہدی کی جائے پیدائش ناصریہ شہر میں قتل عام کا گندا کھیل کھیلا ہے جہاں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور حکومت سے استعفی دینے  کے مطالبے بھی ہو رہے ہیں اور ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تیار تحریک کے رہنما نے ایک پیغام بھیجا ہے جس میں متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت دستبردار نہ ہوئی تو عراق کے خاتمہ کے آغاز جیسا حشر ہوگا۔
        سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین ہونے والے پرتشدد جھڑپوں کے نتیجہ میں جنوبی گورنریٹ ذی قار کے مرکز ناصریہ شہر میں خون کی ہولی کھیلی گئی ہے اور اس کے نتیجہ میں 32 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور تقرری کے ایک روز بعد ہی گورنریٹ ذی قار کے فوجی کمانڈر کو برخاست کر دیا گیا ہے اور تین روز تک سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔(۔۔۔)
جمعہ 2 ربیع الآخر 1441 ہجرى - 29 نومبر 2019ء شماره نمبر [14975]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا