تنازعات اور تنقید کی وجہ سے عبد المہدی کا استعفیٰ نامہ

تنازعات اور تنقید کی وجہ سے عبد المہدی کا استعفیٰ نامہ

برہم صالح عارضی طور پر حکومت کے ذمہ دار اور ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم
ہفتہ, 30 November, 2019 - 12:45
بغداد کے تحریر اسکوائر میں مظاہرین کو کل وزیر اعظم عادل عبد المہدی کے استعفیٰ دینے کے ارادہ کے اعلان کے بعد تقریبات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے
        عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی کی حکومت نے روز بروز مظاہروں میں متاثر ہونے والوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے پیش نظر اور عراقی شہروں میں خونی جھڑپوں اور سیاسی بلاکس کی جانب سے کڑی تنقید کی وجہ سے استعفی دینے کا ارادہ کا اعلان کیا ہے اور عراق میں اعلی شیعہ رہنما علي السيستاني نے واضح انداز میں ایوان نمائندگان کو مخاطب کیا ہے کہ وہ حکومت سے اعتماد واپس لینے کا کام کریں۔
       سیستانی نے اپنے نمائندہ جناب احمد الصافی کے ذریعہ کربلا میں پڑھے گئے جمعہ کے خطبہ میں کہا ہے کہ ایوان نمائندگان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے اختیارات پر نظر ثانی کریں اور عراق کے مفاد، اس کے عوام کے خون کے تحفظ، تشدد، انتشار اور تباہی سے گریز کرتے ہوئے اپنا کام کرے۔
       اس کے چند گھنٹوں بعد عبد المہدی نے استعفی دینے کے اپنے ارادہ کا اعلان کر دیا اور ایک بیان میں کہا کہ میں موجودہ وزیر اعظم کے استعفے کی درخواست باضابطہ خط کے ذریعہ ایوان صدر میں پیش کروں گا تاکہ کونسل اپنے اختیارات پر نظر ثانی کرے اور عراقی آئین کے مطابق صدر جمہوریہ برہم صالح عارضی طور پر وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔(۔۔۔)
ہفتہ
3 ربیع الآخر 1441 ہجرى - 30 نومبر 2019ء شماره نمبر [14976]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا