بشیر کی پارٹی کے خاتمہ سے سوڈان کے اسلام پسند پریشان

بشیر کی پارٹی کے خاتمہ سے سوڈان کے اسلام پسند پریشان

ہفتہ, 30 November, 2019 - 13:45
سابقہ حکومت سے متعلق ایک فرد کے ذریعہ دئے بانے والے خطبۂ جمعہ کے خلاف سوڈانی طلباء کے احتجاج کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے
        تین دہائیوں تک ملک پر حکمرانی کرنے والی قومی نجات کے نظام کے خاتمہ کے لئے سوڈانی حکومت نے آج شام ایک ایسے قانون کو منظوری دی ہے جس کے بعد سوڈان کے متعدد شہروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اس قانون کے ذریعہ سوڈان کے معزول صدر عمر البشیر کی سربراہی میں قائم نیشنل کانگریس پارٹی کو ختم کیا جائے گا اور ملک کے مفاد کے لئے اس کے کردار اور جائیداد کو ضبط کیا جائے گا اور پارٹیوں کے اندراج سے بھی ختم کر دیا جائے گا اور اس کی تجارتی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی تمام گوشوں کو تحلیل کر دیا جائے گا۔
        قانون کی توثیق کے فورا بعد ہی ایک زمانہ سے اس فیصلہ کے منتظر لوگوں نے خرطوم اور دیگر شہروں کے متعدد اضلاع سے نکل کر خوشی کا اظہار کیا اور اس نئی قرارداد سے ان اسلام پسندوں میں تشویش کی فضا ہے جنہوں نے 1989 میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور وقت اس باغی حکومت نے نام نہاد عوامی مفادات کا قانون نافذ کرکے ملک میں اپنے مخالفین کو بے گھر کردیا اور ملکی صلاحیتوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔(۔۔۔)
ہفتہ 3 ربیع الآخر 1441 ہجرى - 30 نومبر 2019ء شماره نمبر [14976]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا