کارکنوں کے قتل کی مہم سے عراق میں غم وغصہ کی لہر

کارکنوں کے قتل کی مہم سے عراق میں غم وغصہ کی لہر

جمعرات, 12 December, 2019 - 10:15
کل مظاہرہ کرنے والے ایک عراقی شخص کو وسطی بغداد کے تحریر اسکوائر سے جمع کی گئی خالی گولیوں کو دکھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
         عراق میں کارکنوں کے قتل کی مہم نے شہریوں میں غم وغصہ کی لہر کو پیدا کر دیا ہے اور اس سے عوامی تحریک کو درپیش سنگین چیلنج کا پتہ چلتا ہے۔
         بغداد ، کربلا اور میساں میں ریکارڈ کئے جانے والے اغوا اور قتل کی مسلسل وارداتوں کے کے بعد 49 سالہ ممتاز سول کارکن علی اللامی کے رشتہ داروں کو کل ایک لاش ملی جس کے سر پر گولی لگی ہوئی تھی اور یہ گولی اس وقت لگی تھی جب وہ بغداد کے الشعب نامی علاقہ میں اپنی بہن کے گھر جارہے تھے۔
         پولیس نے اطلاع دی ہے کہ یہ شخص پانچ بچوں کا باپ ہے اور اسے ان تین افراد کی گولی لگی ہے جنہوں نے خاموش طریقہ استعمال کیا تھا اور ان کے قریبی دوست تيسير العتابي نے کہا ہے کہ انہیں بدعنوان حکومت کے میلیشیاؤن کے ہاتھوں مارا گیا ہے اور اللامي عراق میں دس دن کے دوران قتل ہونے والے تیسرے کارکن ہیں۔
         انسانی حقوق کمیشن کے ایک رکن علی البیاتی نے کارکنوں کے خلاف قتل کی کاروائیوں میں اضافہ ہونے کی تصدیق کی ہے اور انہوں نے الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری نگرانی اور حالات پر نگاہ رکھنے کے باوجود کارکنوں کے قتل کی کاروائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ اس قتل کے واقعات سے لڑکیاں بھی محفوظ نہیں ہیں اور یہ ایک خطرناک اشارہ ہے۔(۔۔۔)
جمعرات 15 ربیع الآخر 1441 ہجرى - 12 دسمبر 2019ء شماره نمبر [14989]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا