عزیزہ جلال: میں اپنے بچوں اور ان کی نسل کے لئے گانا چاہتی ہوں

عزیزہ جلال: میں اپنے بچوں اور ان کی نسل کے لئے گانا چاہتی ہوں
TT

عزیزہ جلال: میں اپنے بچوں اور ان کی نسل کے لئے گانا چاہتی ہوں

عزیزہ جلال: میں اپنے بچوں اور ان کی نسل کے لئے گانا چاہتی ہوں
         30 سال کی عدم موجودگی کے بعد العلا اگلے جمعرات کو عزیزہ جلال کے ساتھ اپنے اسٹیج "آئینہ" سے اپنی گلوکاری کی واپسی کرنے والی ہیں۔
        عزیزہ جلال نے "الشرق الاوسط" سے کھلے دل کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے ثقافتی اور معاشرتی سطح پر لائی گئی تبدیلیوں کی وجہ سے واپس آئی ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنے ماضی کے تجربہ کی روشنی میں ایک بات کہنا چاہتی ہوں اور میں اسی طرح اپنے بچوں اور ان کی نسل کے لئے گانا چاہتی ہوں۔
        عزیزہ جلال نے انتہائی طویل مدت تک غائب ہونے کے بعد اپنی واپسی کی وجوہات کے بارے میں جواب دیا ہے اور اسی طرح انہوں نے شمال مغربی سعودی عرب میں واقع العلا شہر میں "آئنہ" نامی تھیٹر کے بارے میں بتایا اور وہ اگلے جمعرات کی رات کو اپنے خزانہ کا آغاز کریں گی اور وہ قدیم تہذیب کے قریب اپنا گانا گائیں گی۔(۔۔۔)
اتوار 25 ربیع الآخر 1441 ہجرى - 22 دسمبر 2019ء شماره نمبر [14999]


دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
TT

دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)

جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔

پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔

جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)

جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]