تہران اور واشنگٹن بغداد میں سفارتخانہ کی طرف متوجہ

تہران اور واشنگٹن بغداد میں سفارتخانہ کی طرف متوجہ

حشد کے حامیوں کی طرف سے حملہ کرنے کی کوشش ۔۔ ٹرمپ کی طرف سے حفاظت کے لئے فوج بھیجنے کا اعلان اور عراقیوں سے ایران سے چھٹکارا پانے کا مطالبہ
بدھ, 1 January, 2020 - 16:30
        بغداد میں امریکی سفارتخانے کی دیواروں کے سلسلہ میں تہران اور واشنگٹن کے مابین تصادم ہونے کی صورت ظاہر ہو رہی ہے کیونکہ ایران کی حمایت یافتہ حشد شعبی کے ہزاروں ارکان نے عراقی دار الحکومت کے قلعہ بند گرین علاقہ میں واقع سفارت خانے کی طرف حرکت کر دی ہے اور ان کے پیش پیش فالح الفیض، انجینیئر ابو مہدی، ہادی العامری اور قیس الخزعلی جیسے ان کے سینئر رہنما ہیں اور ان کا یہ اقدام گذشتہ جمعہ کو مغربی عراق اور شام میں "حزب اللہ بریگیڈ" کے صدر دفاتر کو نشانہ بنانے والے امریکی حملوں کی مذمت کرنا ہے۔
       جلد ہی یہ مظاہرہ سفارت خانہ پر حملہ کرنے کی کوشش میں تبدیل ہو گیا لیکن اس کے گارڈوں نے انہیں روکنے کے لئے گیس اور گولیوں کا استعمال کیا جس کی وجہ سے درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
      امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز اس حملے کے پیچھے ایران کے ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایران نے عراق میں امریکی سفارت خانہ پر ہونے والے حملہ کو منظم کیا ہے  اور انھیں پوری طرح سے اس کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی اور انہوں نے عراق سے سفارتخانہ کے تحفظ کے لئے اپنی افواج کا استعمال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور انہوں نے ایک دوسرے ٹویٹ میں عراقیوں کو ایران سے چھٹکارا پانے کے سلسلہ میں آمادہ کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ جو لوگ آزادی کے خواہاں ہیں اور ایران کے تسلط اور اس کے دسترس میں نہیں رہنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا وقت ہے۔(۔۔۔)
بدھ 06 جمادی الاول 1441 ہجرى - 01 جنوری 2020ء شماره نمبر [15009]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا