تل ابیب کا دمشق سے محبت کا اظہار اور تہران میلیشیاؤں پر بمباری

تل ابیب کا دمشق سے محبت کا اظہار اور تہران میلیشیاؤں پر بمباری

ادلب میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے خطرہ کی گھنٹی بلند
ہفتہ, 11 January, 2020 - 11:45
گذشتہ روز اسرائیل کی جیل سے رہا ہونے کے بعد گولن کے مجدل شمس میں صدقي المقت کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

         تل ابیب نے گذشتہ روز اسرائیل کے دورہ اور دمشق کے ساتھ اظہار محبت کرنے سے کچھ دن قبل روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی اچھی نیت کے طور پر دو شامی قیدیوں کی اچانک رہائی کا اعلان کیا ے اور اس کا مقصد دمشق کو اس تہران سے دور رکھنا ہے جن کی میلیشیاؤں کو مشرقی شام میں کل صبح سویرے بمباری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


         گذشتہ اپریل میں دو قیدی صدقي المقت اور امل فوزی ابو صالح کی رہائی میں رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ روس کی زیر نگرانی میں ہونے والے معاہدہ کی بنیاد پر سنہ 1982 میں لبنان میں ہونے والے حملہ کے بعد سے لاپتہ اسرائیلی فوجی زخاريا باومل کی لاش کو برآمد کر لیا گیا تھا اور اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے زخاريا باومل کی بازیابی کے نتیجے میں دونوں قیدیوں کے سلسلہ میں سیاسی اقدام اور اچھی نیت کے طور پر رہائی کی منظوری دے دی ہے۔(۔۔۔)


ہفتہ 16 جمادی الاول 1441 ہجرى - 11 جنوری 2020ء شماره نمبر [15019]  

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا