واشنگٹن کی طرف سے ایرانی جوہری توانائی ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر پابندیوں کی فہرست میں شامل

ایران کے امور خارجہ کے کوآرڈینیٹر برائن ہاک کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
ایران کے امور خارجہ کے کوآرڈینیٹر برائن ہاک کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
TT

واشنگٹن کی طرف سے ایرانی جوہری توانائی ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر پابندیوں کی فہرست میں شامل

ایران کے امور خارجہ کے کوآرڈینیٹر برائن ہاک کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
ایران کے امور خارجہ کے کوآرڈینیٹر برائن ہاک کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
        ریاستہائے متحدہ امریکہ نے گزشتہ روز ایرانی جوہری توانائی ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر علی اکبر صالحی کے ساتھ ایرانی حکومت پر نئی پابندیاں عائد کی ہے اور اس کے مقابلہ میں واشنگٹن نے روسی، چینی اور یورپی کمپنیوں کو ایرانی جوہری پروگرام میں اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے تاکہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لئے تہران کی ترقی میں زیادہ پریشانی آسکے۔
        امریکی محکمۂ خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر بیان کیا ہے کہ اس نے ایرانی جوہری توانائی ایجنسی (اے ای او آئی) اور اس کے ڈائریکٹر علی اکبر صالحی پر پابندیاں عائد کردی ہے اور اس کا اثر ایرانی جوہری پروگرام پر کافی ہوگا کیونکہ پروگرام پر آپریشنل کنٹرول اسی کا ہے اور اس میں جوہری پرزے خریدنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔(۔۔۔)
جمعہ 06 جمادی الآخر 1441 ہجرى - 31 جنوری 2020ء شماره نمبر [15039]


مالی کا الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام

مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)
مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)
TT

مالی کا الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام

مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)
مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)

کل جمعرات کے روز افریقی ملک مالی کی حکمران عسکری کمیٹی نے الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا۔

"روئٹرز" کے مطابق، عسکری کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ 2015 کا الجزائر امن معاہدہ فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔ الجزائر کی حکومت کے قریبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وہ باماکو کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا کے روس کی ملیشیا "وگنر" کے ساتھ اتحاد سے پریشان ہے۔ گزشتہ نومبر میں مالی میں ملیشیا کی طرف سے تکنیکی اور لاجسٹک مدد سے شروع کیے گئے ایک اچانک حملے میں مالی کی افواج نے کیدال شہر پر قبضہ کر لیا تھا، جب کہ کیدال، شمال میں ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرنے والی مسلح اپوزیشن کا ایک اہم گڑھ شمار ہوتا ہے۔

انہی ذرائع کے مطابق، الجزائر اس پیش رفت کو مالی میں تنازعے کے دونوں فریقوں کے مابین 2015 میں اپنی سرزمین پر دستخط کیے گئے "امن معاہدے کی خلاف ورزی" شمار کرتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کے شہروں پر کرنل گوئٹا کی پیش قدمی اور جدید فوجی آلات کا استعمال کرتے ہوئے اپنی فوجی مہم کے دوران اسے "ویگنر" کے زیر کنٹرول دینے کو بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کو کمزور کرنا شمار کرتا ہے، اور خیال رہے کہ الجزائر اس ثالثی کا سربراہ ہے۔

اس مہینے کے آغاز میں کرنل گوئٹا نے اندرونی تصفیہ کے عمل کے حوالے سے بیانات دیئے، جس سے یہ سمجھا گیا کہ وہ "امن معاہدے" اور ہر طرح کی ثالثی سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

جمعہ-14 رجب 1445ہجری، 26 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16495]