انتخابی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کے لئے خامنئی کی طرف سے اپنے "مذہبی کارڈ" کا استعمال

انتخابی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کے لئے خامنئی کی طرف سے اپنے "مذہبی کارڈ" کا استعمال

بدھ, 19 February, 2020 - 08:45
کل تہران بازار میں ایک ایرانی بزرگ شخص کو جوتوں کی دکان کے سامنے سلیمانی کے پوسٹر کے پاس سے گذرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
گزشتہ روز ایران کے اعلی رہنما علی خامنئی نے جمعہ کو ہونے والے انتخابات میں شہریوں کی طرف سے ووٹ دینے کے سلسلہ میں تردد اور ہچکچھاہٹ کے موقف کا مقابلہ کرنے کے لئے "مذہبی کارڈ"  کا اعلان کیا ہے اور خامنئی نے کل اپنے حامیوں کے ہجوم کے سامنے کہا ہے کہ آج ووٹ ڈالنا نہ صرف ایک انقلابی اور قومی ذمہ داری ہے بلکہ ایک مذہبی فریضہ بھی ہے۔
گارڈین کونسل نے صدر حسن روحانی کی نمائندگی کرنے والی اعتدال پسند اور اصلاح پسند تحریک کے مقابلے میں ان کے قریب ترین قدامت پسند تحریک کے امیدواروں کو ترجیح دی ہے۔
خامنئی نے کہا کہ انتخابات ملک کو مضبوط کرنے کا ایک طریقہ ہے اور ایک کمزور پارلیمنٹ کے نتائج طویل مدت تک نظر آئیں گے اور کمزور پارلیمنٹ کی وجہ سے دشمنوں کے خلاف جاری ہماری جنگ پر منفی اثرات پڑین گے۔
ایرانی رہنما کا مزید یہ بھی کہنا ہوا کہ یہ انتخابات امریکہ کے خراب عزائم کو بے اثر کردیں گے اور ایک بار پھر یہ ثابت ہوں گا کہ عوام حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔(۔۔۔)
بدھ 25 جمادی الآخر 1441 ہجرى - 19 فروری 2020ء شماره نمبر [15058]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا