انقلاب کے بعد ایران میں سب سے کم ووٹ کی شرح

انقلاب کے بعد ایران میں سب سے کم ووٹ کی شرح

پیر, 24 February, 2020 - 11:30
ایرانی وزیر داخلہ کو کل تہران میں پریس کانفرنس کے دوران نتائج کا اعلان کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (مہر)
ایرانی وزیر داخلہ عبد الرضا رحماني فضلي نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ جمعہ کے روز ہونے والے قانون ساز انتخابات میں ووٹ کی شرح 42 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور یہ تناسب 1979 کے انقلاب کے بعد سب سے کم ہے۔
رہنما علی خامنئی نے اس کمی کے بارے میں بتایا ہے کہ دشمنوں نے منفی پروپیگنڈا پھیلاکنے کی کوشش اس طرح کی ہے کہ ملک میں کورونا وائرس پھیل گیا ہے اور اسی وجہ سے ووٹوں کی شرح کم ہوئی ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پروپیگنڈا دو ماہ قبل شروع ہوا تھا اور انتخابات سے قبل اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
تہران نے 2008 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد انتخابات میں سب سے کم حصہ لینے کا ریکارڈ 10 لاکھ اور 841 ہزار ووٹرز کیا تھا اور کل 25 فیصد کی شرکت ہے اور یاد رہے کہ سنہ 2008 میں قدامت پسندوں نے بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔(۔۔۔)
پیر 30 جمادی الآخر 1441 ہجرى - 24 فروری 2020ء شماره نمبر [15063]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا