طالبان کی طرف سے کابل کے ساتھ جزوی صلح کا خاتمہ

طالبان کی طرف سے کابل کے ساتھ جزوی صلح کا خاتمہ

منگل, 3 March, 2020 - 14:30
طالبان کے عناصر کو کل جزوی صلح کو ختم کرنے سے قبل جشن منانے کے ساتھ ساتھ سرکاری افواج کے خلاف دوبارہ حملے کے آغاز کے منظر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
ہفتے کے روز قطری دار الحکومت دوحہ میں واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے امن معاہدہ پر دستخط کرنے کے دو دن بعد تحریک طالبان نے کل اعلان کیا ہے کہ وہ  امن معاہدہ سے قبل ہونے والے جزوی صلح کو جتم کرتے ہوئے افغان افواج کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کرے گی۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا ہے کہ اب کشیدگی میں کمی کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور ہم اپنے آپریشن حسب معمول جاری رکھیں گے اور اسی طرح انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تحریک طالبان اس وقت تک افغانوں کے مابین مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی جب تک اس کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا ہے اور انہوں نے رائٹرز کے ساتھ ٹیلیفون کے ذریعہ ہونے والی گفتگو میں بتایا ہے کہ اگر ہمارے 5000 قیدی رہا نہیں ہوئے؛ کیونکہ ان میں سے سو یا دو سو یا اس سے زیادہ یا کم اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے لہذا افغانوں کے مابین کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
طالبان کے اس اعلان کے چند گھنٹوں کے بعد ہی مشرقی افغانستان کے صوبہ خوست کے گورنر نے بتایا ہے کہ مقامی فٹ بال کے میدان کو کار بم سے نشانہ بنایا گیا ہے جس میں کم از کم 3 شہریوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے اور اس حملے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔(۔۔۔)
منگل 08 رجب المرجب 1441 ہجرى - 03 مارچ 2020ء شماره نمبر [15071]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا