عصمت دری کرنے والوں کی عام معافی کی وجہ سے ترکی میں غصہ کی لہر

عصمت دری کرنے والوں کی عام معافی کی وجہ سے ترکی میں غصہ کی لہر

جمعرات, 26 March, 2020 - 12:15
ترک صدر کو پیر کے دن ویڈیو کانفرنس کے دوران اپنی حکومت کے ممبروں کے ساتھ "کورونا" بحران کے سلسلہ میں تبادلۂ خیال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے پی)
ترک حکومت ایک ایسے قانون میں ترمیم کرنے کے منصوبہ کو پارلیمنٹ میں منظور کرنا چاہتی ہے جس میں کورونا وبا کے پھیل جانے کے خوف سے ان قیدیوں کو معاف کرنے کی بات کہی گئی ہے جو جان بوجھ کر قتل کرنے اور دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں لیکن اس منصوبہ کی وجہ سے خواتین اور بچوں کے حقوق کے دفاع کے شعبے میں سرگرم انجمنوں اور تنظیموں کے مابین وسیع پیمانے پر غم وغصہ کی کیفیئت دیکھنے کو ملی ہے کیونکہ یہ قانون ان کے علاوہ عصمت دری اور ہراساں کرنے کے مرتکب افراد کے خلاف بھی عمل درآمد ہوگا۔
گزشتہ روز صدر رجب طیب اروغان نے پابندیوں کے متنازعہ قانون کے لئے پیش کی جانے والی ترمیمات کے سلسلہ میں تبادلۂ خیال کرنے کے لئے اپنی حکومت کے ممبروں کے ساتھ "ویڈیو کانفرنسنگ" کے ذریعہ ایک میٹنگ کی ہے اور اسی کے ساتھ ان کی پارٹی کے ذریعہ پیش کردہ ایک ایسے قانون کے مسودہ کے سلسلہ میں بھی تبادلۂ خیال کیا ہے جس میں عصمت دری کرنے والے کو معاف کرنے کی بات کہی گئی ہے اور اگر اس نے اس سے شادی کرلی جس کی عصمت دری کی گئی ہے تو اس کی سزا خارج کردی جائے گی اور ایک اندازہ کے مطابق اگر پارلیمنٹ نے اس نئی ترمیم کو منظوری دے دی تو 70 ہزار سے 100 ہزار تک قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جن میں 60 ہزار افراد منشیات کے جرائم میں ملوث ہیں۔(۔۔۔)
جمعرات 01 شعبان المعظم 1441 ہجرى - 26 مارچ 2020ء شماره نمبر [15094]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا